منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

گورنر کے اختیارات میں کمی۔۔۔ گورنر سندھ نے بڑا اعلان کر دیا

datetime 10  دسمبر‬‮  2019 |

حیدرآباد(این این آئی)گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ گورنر کے اختیارات کم ہوئے ہیں مگر اس سے اتنا فرق نہیں پڑے گا، سندھ حکومت سے مل کر کام کرنا چاہتے ہیں لیکن سندھ حکومت کی تبدیلی کا نہ حصہ ہیں نا بننا چاہتے ہیں، مجھ سے نہ وزیر اعظم سے اور نہ ہی صدرپاکستان نے ایسی بات کہی ہے اور نہ ہی اس سلسلے میںکوئی کھچڑی پک رہی ہے، اگر کام لینا ہے تو ہمیں اپنی پولیس کو

خودمختا ر بنانا ہوگا، ہم چاہتے ہیں کہ سندھ حکومت عوام کی بلا تفریق خدمت کرے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے کام کرے۔وہ سی پی ایل سی حیدرآباد کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے، اس موقع پر ایم پی اے حلیم عادل شیخ اور دیگر رہنماء بھی موجود تھے۔ گورنر عمران اسماعیل نے کہا کہ میں سندھ حکومت کو ایک بار پھر دعوت دیتا ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ مل کر عوام کی فلاح و بہبود اور سندھ کے مسائل کے حل کے لیے کام کرے کیونکہ سندھ کے لئے وفاقی منصوبوں کی تکمیل کے لیے سندھ حکومت کا تعاون ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں سندھ میں تعلیم ، صفائی ستھرائی اور دیگر اہم مسائل کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ سندھ سے کچرے کی صفائی اور دیگر مسائل کے حل میں ہمیں اپنی اپنی ذمہ داریوں کا تعین کرنا ہوگاتاکہ عوام کی زیادہ سے زیادہ خدمت کو یقینی بنایا جاسکے، ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ گورنر کے اختیارات کم ہوئے ہیں مگر اس سے اتنا فرق نہیں پڑے گا، گورنر صوبے میں وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے اور اس کا کردار محدود ہوتا ہے، سندھ پولیس بل سے متعلق سوال پر گورنر سندھ نے کہا کہ پولیس بل پرمیں نے اپنے اعتراضی نقاط لکھے تھے وہ اب ریکارڈ کا حصہ ہیں میں نے نشاندہی کی تھی کہ اس سے خرابیاں پیدا ہوں گی، انہوں نے کہا کہ پولیس سمیت جس ادارے سے کام لینا ہے تو اسے خودمختار کرنا ہوگا تاکہ وہ بغیر کسی دبائو اپنا کام کرسکے ،ہمیں اپنی پولیس کو خودمختا ر بنانا ہوگا، انہوں نے کہا کہ ایف آئی آرسے متعلق آج بھی لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور اس سلسلے میں خیبرپختونخواہ میں ڈیجیٹل ایف آئی آر درج کرانے کا ماڈل کامیابی سے چل رہا ہے اوراگر سندھ حکومت چاہے تو اسے سندھ میں بھی متعارف کرایا جاسکتا ہے، سی پی ایل سی سے متعلق گورنر سندھ نے کہا کہ سی پی ایل سی کی ٹیم اچھی طرح کام کررہی ہے اور پولیس بھی اس کے ساتھ تعاون کرتی ہے اور ڈیٹا شیئرنگ کرکے سی پی ایل سی جرائم کی روک تھام میں مصروف عمل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…