پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

سول حکومت اور عسکری قیادت کے مابین تعلقات کیسے ہیں ؟ پلڈاٹ نےاپنی رپورٹ جاری کردی ہے

datetime 10  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)پلڈاٹ نے سول حکومت اور عسکری قیادت کے مابین تعلقات بارے اپنی رپورٹ جاری کردی ہے۔رپورٹ میں عمران خان کی سول حکومت اور فوج کے مابین تعلقات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔یہ رپورٹ 5ماہ کے دوران سول ملٹری تعلقات کے متعلق جاری ہوئی ہے جس میں عمران خان اور ملٹری سربراہ  جنرل باجوہ کے مابین متعدد ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ان پانچ ماہ میں سول ملٹری تعلقات میں

کوئی قابل ذکر خلش دیکھنے میں نہیں آئی بلکہ تمام قومی امور پر سول اور ملٹری ادارے ایک صفحہ پر دکھائی دیتے ہیں۔رپورٹ میں پشتون تحفظ موومنٹ کی سرگرمیوں اور سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس پر بھی روشنی ڈالی گئی۔رپورٹ میں کور کانفرنس کے نتیجہ میں ہونے والے اہم فیصلوں بارے بھی آگاہ کیا گیا ہے جبکہ آرمی چیف جنرل باجوہ کے ساتھ غیر ملکی شخصیات کی ملاقاتوں بارے بھی تفصیلات دی گئی ہیں۔رپورٹ میں نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے قیام اور ممبران کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔رپورٹ کہا گیا کہ اہم قومی امور پر مئی میں آرمی چیف اور وزیراعظم عمران خان کے مابین تین ملاقاتیں ہوئی تھیں،جو انتہائی خوشگوار موڈ میں ہوئی ہیں۔رپورٹ میں تھائی لینڈ اور سوڈان میں فوجی بغاوتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔پلڈاٹ رپورٹ میں جون میں آرمی چیف کا پاکستان کی معیشت پر کیا گیا اظہار خیال پر بھی تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی گئی جبکہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے قومی قرضوں میں اضافہ بارے تحقیقاتی کمیشن میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کے نمائندوں کی شرکت پر بھی روشنی ڈالی گئی جبکہ سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی طرف سے کمیشن میں عسکری نمائندوں کی شرکت کے حوالے سے مخالفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔رپورٹ میں لاپتہ افراد کی تلاش کے لئے سپیشل سیل کے قیام پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جبکہ وزیر تعلیم شفقت محمود اور آرمی چیف کے مابین مدارس اصلاحات بارے ملاقات کو رپورٹ کا اہم حصہ بنایا گیا ہے۔اس کے علاوہ ٹیکسوں کی وصولی بارے ایف بی آر حکام کی عسکری حکام سے دو طرفہ رابطہ کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے جبکہ آئی ایس پی آر کی طرف سے ریکارڈ عسکری حکام کی قومی امور پر ریٹائرڈ آرمی افسران کو دی جانے والی اجازت کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔پلڈاٹ نے اگست میں اپنی مانیٹرنگ رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومت کے آرمی چیف جنرل باجوہ کو بھی تین سال بطور آرمی چیف برقرار رکھنے کی اجازت دے دی ہے.

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…