اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

کینیڈی ، گاندھی اور بھٹو خاندان میں غیر فطری موت کی موماثلت سیاست سے کیوں دور ہوں ؟چچا شاہنواز بھٹو ،دادا ذوالفقار علی بھٹو اور پھپھو بے نظیر کی موت کے پیچھے وجہ کیا چیزبنی ؟ ذوالفقار جونیئر کےتہلکہ خیز انکشافات

datetime 10  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ذوالفقار علی بھٹوکے پوتے ذوالفقار جونیر نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ میرے والد قتل ہوئے ، میرے دادا مارے گئے ، میری پھوپھو ہلاک ہوئیں اور میرے چچا کو مار دیا گیا ، مگر ہر وقت شہادت کی امیدکیوں کی جاتی ہے ۔ مقامی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق  ذوالفقارجونیر کا کہنا تھا کہ میں اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنا چاہتا ، میں اس زندگی میں ہی خوش ہوں

اور آرٹس کو اپنی سیاسی آواز بنایا ۔ میرے والد قتل ، دادا مارے گئے ، میری پھوپھو ہلاک ہوئیں ظاہر ہے ایسے میں تحفظ کی ضرورت ہے اس سوچ کی کی ضرورت ہے کہ دوسروں کو کیسے محفوظ رکھا جائے یہی وجہ ہے کہ میں سیاست چھوڑ کر آرٹس کو اپنے ذریعہ معاش بنایا ۔ جب بھی دنیا میں سیاسی خاندانوں کی بات ہوتی ہے تو کینیڈی خاندان کا نام لیا جاتا ہے ، اس کے بعد انڈیا میں گاندھی خاندان جبکہ پاکستان میں بھٹو خاندان کا نام آتاہے ۔ ان تینوں کھرانوں میں ایک بات مشترکہ ہے کہ ان کے بیشتر افراد طبی موت نہیں مرے ۔ جان ایف کینیڈی ، رابرٹ کینیڈی ، اندرا گاندھی ، راجیو گاندھی ، ذوالفقار علی بھٹو ، بے نظیر بھٹو اور ان کے بھائی شاہنواز بھٹو اور مرتضی بھٹو کی موت فطری نہیں تھی ۔ پاکستان میں فوجی آمر جنرل ضیا الحق نے منتخب رہنما  ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی دیدی ، لندن میں جلاوطنی کی زندگی  ذوالفقارعلی بھٹو کی بیٹی بے نظیر نے جنرل ضیا کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا ان کے دونوں بھائی شاہنواز اور مرتضی علی بھٹو پاکستان سے باہر چلے گئے تھے اور اپنے والد کو بچانے کی مہم چلائی ۔ جب  ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو مرتضی اور شاہنواز بھٹو لندن کے ایک فلیٹ میں رہ رہے تھے جیسے انہیں یہ خبر ملی وہ باہر آئے اور دنیا بھر کی میڈیا کے سامنے کہا اس (ضیا ) نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا ۔ ان کا سیاسی نشان ختم کرنے کی کوشش کی اور پھر انہیں مار ڈالا۔اسی طرح بے نظیر بھٹو لیاقت باغ میں دہشت گردی کی نظر ہوئیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…