پاکستانی لڑکیوں کی چین سمگلنگ کی تحقیقات،ایف آئی اے کی مختلف مقامات پر چھاپے اورگرفتاری پر چین کاسخت اظہار ناراضگی،کارروائی روک دی گئی،سینئر افسران کے افسوسناک انکشاف

  اتوار‬‮ 8 دسمبر‬‮ 2019  |  22:14

اسلام آباد(آن لائن) ایف آئی اے  کے سینئر افسران نے انکشاف کیا ہے کہ چینی باشندوں  کیخلاف پاکستانی  لڑکیوں کی اسمگلنگ  کی تحقیقات  وزارت خارجہ اور وزارت  داخلہ کے دباؤ پر سرد خانے  کی نذر ہوئیں۔ انسانی سمگلنگ کے حوالے سے چینی باشندوں کے خلاف تحقیقات اور گرفتاریاں وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کے شدید دباؤکے تحت بند کردی گئیں ایف آئی اے  کے  سینیئر افسران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ملک میں جو مختلف زونز میں درخواستیں موصول ہوئیںجن میں خواتین نے بتایا ہمیں چینی باشندے خود کو مسلمان ظاہر


کرکے شادی کرکے لے گئے اور وہاں جاکر جسم فروشی پر مجبور کیا گیا جبکہ کچھ خواتین نے تو یہاں تک بتایا کہ شادی کے چند دن کے بعد انکے چینی شوہروں نے پاکستان ہی میں ان سے جسم فروشی جیسے  غلیظ کام شروع کروا دئیے تھے جبکہ بڑی مشکل سے انہوں نے بھاگ کر جان بچائی ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق جب ایف آئی اے نے تحقیقات کرکے مختلف مقامات پر چھاپے مار کر چینی باشندوں کو گرفتار کیا اور میڈیا میں معاملہ بھرپور طریقے سے ہائی لائٹ ہونا شروع ہوا تو اس کے بعد ایف آئی اے پر شدید دباؤ آیا کہ آپ معاملے کی تحقیقات بند کردیں جبکہ وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ نے موقف اختیار کیا کہ چینی حکومت نے وزیر اعظم ہاؤس کو جبکہ چینی ایمبیسی نے وزارت خارجہ اور داخلہ دونوں سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے  اور کہا ہے کہ آپ نے چینی باشندوں کے خلاف اس طرح کاروائیاں جاری رکھیں تو سی پیک خطرے میں پڑ جائے گا جس کے بعد مجبوراً وفاقی تحقیقاتی ادارے کے لاہور زون اور اسلام آباد زون میں تمام درخواستوں پر کاروائی روک دی گئی۔ اس دوران پنجاب زون نے موصول شدہ درخواستوں سے جو اعداد و شمار رپورٹ میں مرتب کیے ہیں وہ چونکا دینے والی انکوائری رپورٹ کے مطابق لگ بھگ 600لڑکیوں کو چینی باشندوں نے شادی کے ذریعے چائنہ اسمگل کیا ان میں سے کچھ تو چینی لوگوں کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں جبکہ باقی عورتوں کا کوئی  فل حال کوئی سراغ نہ مل پایا ہے۔سینئر ذرائع نے مزید بتایا کہ تحقیقات میں مزید پتا چلا ہے کہ یا تو چائنہ اسمگل کی گئی عورتوں سے جسم فروشی کروائی جارہی ہے یا انکے جسم کے قیمتی اعضا نکال  کر بیچ دئیے گئے ہیں اور انکے باقی ماندہ اجسام کو ختم کردیا گیا ہپے۔ واضح رہے کہ  معتبر افسران نے بتایا اپریل دوہزار انیس میں جب ہم نے اسلام آباد کے پوش علاقوں سے چینی باشندوں کو گرفتار کیا کیا تو اسی وقت ہی ہمارے اوپر دباؤ آنا شروع ہوگیا تھا لیکن جب معاملہ میڈیا پر رپورٹ ہونا شروع ہوا تو ہمارے اوپر مزید دباؤ آیا اور ہمیں مجبوراً تحقیات سرد خانے میں ڈالنا پڑیں۔ اس حوالے سے اس رپورٹر کی چند متاثرہ عورتوں سے ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ چینی باشندون نے کچھ لوکل مردحضرات کے ذریعے ہمارے رشتے کی بات کیاور اس کے بعد ہمیں اتنے سبز باغ دکھائے کہ ہمارے والدین نے ہمارے رشتے طے کردئیے جبکہ اسلامی قوانین کے تحت نکاح بھی ہوئے، رخصتی بھی ہوئی لیکن چند دن کے بعد معاملہ عیاں ہوگیا کہ ہمارے ساتھ فراڈ ہوگیا ہے اور ہمیں پہلے غیر محسوس طریقے سے پھر زبردستی جسم فروشی پر مجبور کیا گیا جبکہ ہم بڑی مشکل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئی ہیں  ایف آئی اے نے شادیاں کرانے والے دلال کو بھی گرفتار کیا اس رپورٹر کی اس  سے بھی بات ہوئی تو اس نے کہا کہ میں ایک شادی کرانے کے پانچ لاکھ روپے چینی لوگوں سے لیتاتھا جبکہ اس نے دس شادیاں کروا رکھی ہیں اس سارے معاملے کو جب میڈیا نے بڑے لیول پر ہائی لائٹ کیا تو اس کے بعد چینی حکومت نے براہ راست  وزیر اعظم ہاؤس سے بات کی جبکہ چینی ایمبیسی نے وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ پر شدید دباؤ ڈالا اور تحقیقات کو رکوا دیا جبکہ تمام درخواستوں کو سرد خانے کی نظر کردیا گیالیکن یہ سارا معاملہ سوشل میڈیا پر  دفعہ پھر آگیا ہے۔


موضوعات: