بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان سمیت دْنیا کے کئی عرب‘افریقی اور ایشیائی ممالک میں صبح کے وقت مکمل یا جزوی سورج گرہن،ماہرین نے تفصیلات جاری کردیں

datetime 8  دسمبر‬‮  2019 |

کوہاٹ(این این آئی) پاکستان سمیت دْنیا کے کئی عرب‘افریقی اور ایشیائی ممالک میں 26 دسمبر2019 کی صبح مکمل یا جزوی سورج گرہن ہوگا۔ یہ سورج گرہن ملک بھر میں دکھائی دے گا تاہم ملک کے جنوبی علاقوں کراچی‘ گوادر‘ حیدرآبادسکھرو غیرہ میں سب سے زیادہ ہوگا جہاں سورج کا تقریباً75 سے80 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا۔ پاکستان میں آخری بار تقریباً بیس سال قبل 11 /اگست 1999 کو سورج گرہن ہواتھا جب شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے کراچی میں مکمل سورج گرہن ہواتھا اور شام اندھیری رات میں تبدیل ہوگیا تھا۔

اب پورے 20 سال بعد 26 /دسمبر2019 کی صبح سورج چاند کے پیچھے چھپنا شروع ہوجائے گا اور تقریباً پونے نو بجے صبح سب سے زیادہ سورج گرہن ہوگا جس کا بہترین نظارہ کیا جاسکے گا۔کراچی میں صبح 7:34 پر شروع ہوکر10:10 پر اختتام پذیر ہوگا تاہم 8:46 پر عروج پر ہوگا جبکہ لاہور میں صبح 7:47 پر شروع ہوکر10;19 پر ختم ہوجائے گا اور اس دوران سب سے زیادہ سورج گرہن8:58 پردکھائی دے گا۔اسلام آباد میں صبح 7:50 پر سورج گرہن کا آغازہوکر10:15 پرختم ہوجائے گا جبکہ پشاور اور کوئٹہ میں بالترتیب صبح 7:48 اور 7:39 پر شروع ہوکر10:13 اور10:08 پر اختتام پذیر ہوگا۔ملک بھر میں سورج گرہن کا دورانیہ تقریباً ڈھائی گھنٹے سے زیادہ ہوگا۔ماہرین کے مطابق پاکستان کے علاوہ دیگر ایشیائی‘ افریقی اورکئی عرب ممالک میں بھی سورج گرہن دیکھا جاسکے گا۔ ماہرین کے مطابق اس روزسعودی عرب‘ بھارت‘ سری لنکا‘ سنگاپور اور فلپائن وغیرہ میں بھی تقریباً92سے94 فیصد سورج گرہن ہوگا۔پشاور اور اسلام آباد سمیت پاکستان کے دیگرمتعدد شہروں میں صبح کے وقت سورج گرہن دیکھا جاسکے گا۔ ماہرین کے مطابق 70 فیصد سے زائدسورج گرہن کی وجہ سے درجہ حرارت میں بھی کمی آئے گی۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ سورج گرہن کے دوران سورج کی طرف بغیر فلٹر والے عینک اور چشمے کے دیکھنے سے بینائی متاثر ہونے کا شدید اندیشہ رہتا ہے جبکہ حاملہ خواتین بھی اس دوران اپنے گھروں سے نہ نکلیں۔ماہرین کے مطابق زمین پر سورج گرہن اس وقت لگتا ہے جب چادوران دوران گردش زمین اور سورج کے درمیان آجاتا ہے جس کی وجہ سے سورج کا مکمل یا کچھ حصہ دکھائی دینا بندہوجاتا ہے۔ اس دوران چاندکا سایہ زمین پرپڑتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…