جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

 آئین کی حکمرانی کیلئے ہم نے جو قدم اٹھایا تھا وہ اپنی منزل پر پہنچ رہا ہے،مولانا فضل الرحمان پھر متحرک، حکومت کیخلاف دھماکہ خیز اعلان کردیا

datetime 8  دسمبر‬‮  2019 |

پشاور(این این آئی) جمعیت علماء اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے ایک سال میں سب سے زیادہ قرضے لیے اور پہلے بار ایشیائی ترقیاتی بینک سے ایمرجنسی قرضہ لیا جا رہا ہے۔ اپنی حکومت کے بارے میں کیا جواب دیں گے جو اب ہو رہا ہے؟ اس دور میں مائیں اپنے بچوں کو بیچنے پر مجبور ہو گئی ہیں، نوکریوں کی نوید دے کر نوجوانوں کو بے روزگار کر دیا گیا ہے تاہم اب ہم میدان میں ہیں اور اس تحریک کو مزید آگے بڑھانا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پشاور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی حکمرانی کے لیے ہم نے جو قدم اٹھایا تھا وہ اپنی منزل پر پہنچ رہا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پورے پاکستان کو بی آرٹی بنا دیا گیا ہے یہاں پورے پشاور کو کھنڈر بنا کر بھی جیت گئے اس کو کہتے ہیں دھاندلی اگر کسی اور شہر میں بی آرٹی کھنڈر ہوتا تو عوام ووٹ ہی نہ دیتے۔انہوں نے کہا کہ یہ ملک اور قوم کا پیسہ ضائع کررہے ہیں، بی آر ٹی منصوبے میں ایک کلومیٹر کی لاگت ڈھائی ارب روپے آئی ہے۔ اس حکومت نے ایک سال میں سب سے زیادہ قرضے لیے اور پہلی بار اسٹیٹ بینک ایک ارب روپے سے زائد کے خسارے میں جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلی بار ایشیائی ترقیاتی بینک سے ایمرجنسی کرائسسز قرضہ لیا جا رہا ہے تاہم ان بحرانی قرضوں کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ ملک کی خارجہ پالیسی بھی بری طرح سے ناکام ہو چکی ہے۔ اب انہیں پاکستان پر حکومت کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی اپنی حکومت احتساب کمیشن کے شکنجے میں آگئی لیکن وفاق میں آکر انہوں نے پورا احتساب کمیشن ختم کر دیا۔ قوم تحقیقات کا کہتی ہے تو یہ عدالتوں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حکومت کے اپنے کمیشن کے مطابق گزشتہ 10 سال میں لیے گئے قرضے صحیح اکاؤنٹس میں آئے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کہہ رہی ہے پورے ملک میں درخت لگائیں گے لیکن پہلے بتایا جائے ایک ارب درخت کہاں لگائے گئے ہیں؟ 80 کروڑ درختوں کا پیسہ کہاں گیا؟ اس کا حساب لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اپنی حکومت کے بارے میں کیا جواب دیں گے جو اب ہو رہا ہے؟ اس دور میں مائیں اپنے بچوں کو بیچنے پر مجبور ہو گئی ہیں، نوکریوں کی نوید دے کر نوجوانوں کو بے روزگار کر دیا گیا ہے تاہم اب ہم میدان میں ہیں اور اس تحریک کو مزید آگے بڑھانا ہے۔ ہم اس قلعے کو فتح کرنے کے لیے نکلے ہیں، پیچھے ہٹنے کے لیے نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…