جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

دیا مر بھاشا ڈیم،مہمند ڈیم اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر شروع،منصوبے کب تک مکمل ہوجائیں گے، بڑا اعلان کردیاگیا

datetime 5  دسمبر‬‮  2019 |

لاہور (این این آئی)چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے کہا ہے کہ دیا مر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کا کنٹریکٹ 6 سے 8 ہفتوں میں ایوارڈ کر دیا جائے گا، جس کے بعد منصوبے پر تعمیراتی کام کا آغاز ہو جائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ مہمند ڈیم اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا پہلا مرحلہ زیرِ تعمیر ہیں اور اُمید ہے کہ دونوں منصوبے 2024-25ء میں مکمل ہو جائیں گے۔ اِن کثیرالمقاصد منصوبوں کی تکمیل سے ملک کی قسمت بدل جائے گی۔

اِن خیالات کا اظہار اُنہوں نے 9 ویں ایشین ینگ جیو ٹیکنیکل انجینئرنگ کانفرنس اور 15 ویں بین الاقوامی کانفرنس برائے جیو ٹیکنیکل انجینئرنگ کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کیا۔ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں ہونے والی مذکورہ تین روزہ کانفرنس کا اہتمام پاکستان جیو ٹیکنیکل انجینئرنگ سوسائٹی نے کیا ہے۔افتتاحی تقریب کی صدارت چیئرمین واپڈا نے کی۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نے کہا کہ واپڈا پاکستان میں انجینئرز کی تعداد کے اعتبار سے ملک کا سب سے بڑا ادارہ ہے اور یہ ملک میں انجینئرنگ کے شعبہ کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا چلا آرہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پانی اور پن بجلی کے شعبہ میں مکمل کئے گئے واپڈا کے منصوبوں کا پاکستان کے اقتصادی استحکام اور معاشرتی ترقی میں اہم حصہ ہے۔ واپڈا نے گزشتہ سال تربیلا چوتھے توسیعی منصوبے، نیلم جہلم اور گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ مکمل کئے ہیں، جن کی بدولت نیشنل گرڈ میں 2 ہزار 487 میگاواٹ سستی اور ماحول دوست پن بجلی شامل ہوئی ہے۔پانی اور پن بجلی کے وسائل کو فروغ دینے کی حکمت ِ عملی کا ذکر کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا نے کہا کہ واپڈا اپنے مختلف منصوبوں کی تکمیل کے ذریعے 2025ء تک پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں پانچ ملین ایکڑ فٹ کا اضافہ کرے گا جبکہ اسی دوران اِن منصوبوں کی بدولت چار ہزار 600 میگاواٹ پن بجلی بھی حاصل ہوگی۔ اسی طرح 2030 ء تک پانی اور پن بجلی کے دیگر منصوبے مکمل ہوں گے،

جن کی تکمیل پر مزید 8 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جائے گا اور مزید 16 ہزار میگاواٹ پن بجلی حاصل ہوگی۔بین الاقوامی جیو ٹیکنیکل کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر پاکستان  جیو ٹیکنیکل انجینئرنگ سوسائٹی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ یہ کانفرنس ہمارے انجینئرز اور ملکی ترقی کے لئے سود مند ثابت ہوگی۔پنے خیر مقدمی کلمات میں پاکستان جیو ٹیکنیکل انجینئرنگ سوسائٹی کے صدر امجد آغا نے پاکستان میں جیو ٹیکنیکل انجینئرنگ کی ترقی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے سول انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ اور کانفرنس کی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عزیز اکبر، پاکستان جیو ٹیکنیکل انجینئرنگ سوسائٹی کے سیکرٹری جنرل اور نیسپاک کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہر مسعود اور پنجاب ہائیر ایجو کیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد خالد نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…