جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

چیف جسٹس نے وزیر اعظم کو آئینہ دکھا دیا،پہلی بار کسی وزیر اعظم نے جلسہ عام میں عدالتوں پر تنقید کی،یہ کس بات کی علامت ہے؟تشویشناک دعویٰ کردیاگیا

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ چیف جسٹس نے وزیر اعظم کو آئینہ دکھا دیا ہے،نواز شریف کے جانے کا فیصلہ خود حکومت نے کیا مگر اب وہ اس کو اپنے ذمہ نہیں لینا چاہتی۔پہلی بار کسی وزیر اعظم نے جلسہ عام میں عدالتوں پر تنقید کی ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ اداروں کے درمیان چپقلش کی ایک نئی صورتحال پید اہوچکی ہے جو نیک شگون نہیں۔

چھری خربوزے پر ہویا خربوزہ چھری پر دونوں صورتوں میں نقصان خربوزے کا ہی ہوگا۔جماعت اسلامی نے ملک و قوم کیلئے ہمیشہ اصولی سیاست کی ہے۔ہم پہلے کبھی سازشی سیاست کاحصہ بنے ہیں نہ آئندہ بنیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نائب امیر جماعت اسلامی و سابق رکن قومی اسمبلی میاں محمد اسلم کے انتخابی حلقہ بنی گالہ اسلام آباد میں معززین علاقہ سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر میاں محمد اسلم بھی موجود تھے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ وزیر اعظم کی کھلی تنقید کے بعد صورتحال اس نہج پر پہنچ گئی تھی کہ چیف جسٹس کو خود عدلیہ کی پوزیشن واضح کرنا پڑی۔ میاں محمد نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے معاملہ میں چیف جسٹس نے حکومت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ وزیر اعظم نے خود انہیں باہر بھیجا ہے،اس میں عدالتوں کو مورد الزام نہ ٹھہرایا جائے۔اب حکومت اس کی ذمہ داری قبول کرنے سے بھاگ نہیں سکتی۔انہوں نے کہا کہ موجود ہ اور سابقہ حکمرانوں نے کبھی آئین و قانون کی بالا دستی قبول نہیں کی اور ہمیشہ اپنی ذات کو مقدم سمجھا۔اگر وزیر اعظم ہی عدلیہ کے احترام اور وقار کو ملحوظ خاطر نہیں رکھیں گے تو عام آدمی تک کیا پیغام جائے گا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت احتساب سے راہ فرار اختیار کررہی ہے۔حقیقی احتساب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حکمران خود ہیں۔سابق اور موجودہ حکومتوں نے احتساب کے نظام کو چلنے اور مستحکم ہونے کا موقع نہیں دیا۔نیب کو سیاسی مقاصد حاصل کرنے اور مخالفین کو دبانے کا ذریعہ بنانے کی کو شش کی گئی جس کی وجہ سے ایک بااعتما د اور موثر نظام احتساب قائم ہو سکا نہ حکمرانوں نے کبھی خود کو احتساب کیلئے پیش کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا

کہ اگر مہنگائی پر فوری قابو نہ پایا گیا تو عوام زیادہ دیر حکمرانوں کو برداشت نہیں کریں گے۔مہنگائی اور بے روز گاری کے مارے عوام نے گھروں سے نکل کر حکمرانوں کے بنگلوں اور محلوں کا محاصرہ کرلیا توانہیں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ حکمرانوں کیلئے بہتر یہی ہے کہ وہ اٹھنے والے طوفان سے بچنے کیلئے عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کریں۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت سیاسی افراتفری اور انتشار سے نکلنے اور قومی

یکجہتی کو فروغ دینے کیلئے کشمیر کی آزادی پر فوکس کرے۔کشمیر میں کرفیو کو ایک سو دس دن ہو چکے ہیں۔کشمیری مائیں بہنیں اور بیٹیاں پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہیں مگر ہمارے حکمران ایک تقریر کے بعد مسلسل خاموش ہیں۔انہوں نے کہا کہ مودی کشمیر پر اپنے غاصبانہ قبضہ کو مضبوط بنانے کیلئے حریت رہنماؤں کو گرفتار اور ان کی جائیدادوں کو ضبط کررہا ہے۔مندر کھولے اور مساجد و مدارس کو مسمار کیا جارہا ہے۔بھارت سے لاکھوں ہندوؤں کو لا کر کشمیر میں بسایا جارہا ہے لیکن ہمارے حکمران یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی چپ سادھے بیٹھے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…