ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

شرح سود میں اضافہ کرنے کی کیا وجوہات ہیں؟غربت میں کمی کیسے ہو گی؟ آئی ایم ایف میں ملازمت بارے بھی گورنر سٹیٹ بینک نے دو ٹوک اعلان کر دیا

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی) گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے شرح سود میں اضافہ کرنا پڑا، مہنگائی بڑھنے کی وجہ کچھ خرابیاں تھیں جن پر قابو پایا جارہا ہے۔منگل کو گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف نے معاشی جائزہ لیا ہے، پاکستانی معیشت میں بہت بہتری آئی ہے، اسٹاک اور فاریکس مارکیٹ بہتر ہورہی ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا

کہ کاروبار میں آسانی کے لیے آج دو سرکلر ویب پر لگائے ہیں، درآمد پر پیشگی ادائیگی آسان کردی ہے، بیرون ملک سے خدمات حاصل کرنے کا عمل آسان کیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے استعفیٰ دے چکا ہوں، اب پاکستان کے ایک ادارے کے لیے کام کرتا ہوں۔رضا باقر نے کہا کہ کچھ ماہ پہلے معیشت کو سنگین مسائل درپیش تھے، افراط زر کم ہوگا تو شرح سود کا جائزہ لیں گے، کاروبار کرنے میں شرح سود کے علاوہ دیگر عوامل ہوتے ہیں، ایڈوانس ادائیگیوں کے لیے جولائی 2018 میں پابندی لگادی تھی، زرمبادلہ کے ذخائر کم ہورہے تھے اور شرح مبادلہ اوور ویلیو تھی، مینو فیکچرنگ کے لیے ایڈوانس ادائیگی نہیں تھی۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ بیرون ملک سے 10 ہزار ڈالر تک کی خدمات کی اجازت دے دی ہے، امپورٹس اور خدمات میں پہلے مرحلے میں 10 ہزار ڈالر کی رعایت کی ہے، مستقبل میں اس شعبے میں مزید مراعات دی جائیں گی، خدمات، امپورٹس پر رعایت سے چھوٹے، درمیانے کاروبار کا فائدہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مئی 2018 میں پاکستانی روپے کی شرح مبادلہ کو مارکیٹ میں بیس کیا، آج فاریکس مارکیٹ میں حالات مستحکم ہوئے ہیں، روپے کی قدر میں استحکام سے کاروبار میں آسانی دی ہے۔رضا باقر نے کہا کہ ایکسپورٹرز کا معیشت میں اہم کردار ہے، ایکسپورٹ سے ہی غربت میں کمی، معیشت میں بہتری ہوتی ہے، سستے قرضوں کے ذریعے ایکسپورٹ کو سپورٹ کرتے ہیں، ایکسپورٹرز کے لیے قلیل مدتی اور طویل مدتی سستے قرضے دیتے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…