جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

شرح سود میں اضافہ کرنے کی کیا وجوہات ہیں؟غربت میں کمی کیسے ہو گی؟ آئی ایم ایف میں ملازمت بارے بھی گورنر سٹیٹ بینک نے دو ٹوک اعلان کر دیا

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی) گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے شرح سود میں اضافہ کرنا پڑا، مہنگائی بڑھنے کی وجہ کچھ خرابیاں تھیں جن پر قابو پایا جارہا ہے۔منگل کو گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف نے معاشی جائزہ لیا ہے، پاکستانی معیشت میں بہت بہتری آئی ہے، اسٹاک اور فاریکس مارکیٹ بہتر ہورہی ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا

کہ کاروبار میں آسانی کے لیے آج دو سرکلر ویب پر لگائے ہیں، درآمد پر پیشگی ادائیگی آسان کردی ہے، بیرون ملک سے خدمات حاصل کرنے کا عمل آسان کیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے استعفیٰ دے چکا ہوں، اب پاکستان کے ایک ادارے کے لیے کام کرتا ہوں۔رضا باقر نے کہا کہ کچھ ماہ پہلے معیشت کو سنگین مسائل درپیش تھے، افراط زر کم ہوگا تو شرح سود کا جائزہ لیں گے، کاروبار کرنے میں شرح سود کے علاوہ دیگر عوامل ہوتے ہیں، ایڈوانس ادائیگیوں کے لیے جولائی 2018 میں پابندی لگادی تھی، زرمبادلہ کے ذخائر کم ہورہے تھے اور شرح مبادلہ اوور ویلیو تھی، مینو فیکچرنگ کے لیے ایڈوانس ادائیگی نہیں تھی۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ بیرون ملک سے 10 ہزار ڈالر تک کی خدمات کی اجازت دے دی ہے، امپورٹس اور خدمات میں پہلے مرحلے میں 10 ہزار ڈالر کی رعایت کی ہے، مستقبل میں اس شعبے میں مزید مراعات دی جائیں گی، خدمات، امپورٹس پر رعایت سے چھوٹے، درمیانے کاروبار کا فائدہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مئی 2018 میں پاکستانی روپے کی شرح مبادلہ کو مارکیٹ میں بیس کیا، آج فاریکس مارکیٹ میں حالات مستحکم ہوئے ہیں، روپے کی قدر میں استحکام سے کاروبار میں آسانی دی ہے۔رضا باقر نے کہا کہ ایکسپورٹرز کا معیشت میں اہم کردار ہے، ایکسپورٹ سے ہی غربت میں کمی، معیشت میں بہتری ہوتی ہے، سستے قرضوں کے ذریعے ایکسپورٹ کو سپورٹ کرتے ہیں، ایکسپورٹرز کے لیے قلیل مدتی اور طویل مدتی سستے قرضے دیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…