ای سی ایل سے نام نکالنے کی منظوری، حکومت کس بات کی تاریخ مانگ رہی ہے؟ ن لیگ شدید برہم

  منگل‬‮ 12 ‬‮نومبر‬‮ 2019  |  18:38

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کا حکومت کی جانب سے نواز شریف کے واپسی کے سوال پر کہنا ہے کہ علاج شروع ہوگا توتب پتہ چلے گا کب واپسی ہوگی، نواز شریف کی واپسی کی تاریخ نہیں دی جا سکتی،ن لیگ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالت میں پہلے ہی مچلکے جمع ہیں، عدالت کی جانب سے 8 ہفتے کی توضمانت ہے، ن لیگ کے ذرائع کا کہناہے کہ آٹھ ہفتوں کی ضمانت ہوئی ہے، حکومت کس بات کی تاریخ مانگ رہی ہے، ن لیگ کے ذرائع کا کہناہے کہ کچھ دیر میں وکلاء سے مشاورت کرکے بتائیں


گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے وکلا ذیلی کمیٹی کو دوبارہ جواب دیں گے۔ایک نجی ٹی وی ذرائع کے مطابق فروغ نسیم نے اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان سے بھی رابطہ کیاہے، ذیلی کمیٹی ساڑھے نو بجے کے بعد کابینہ کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ(ای سی ایل) سے نکالنے کی منظوری دے دی۔ذرائع کے مطابق منگل کو وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مشروط منظوری دی گئی۔ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے نواز شریف سے سیکیورٹی بانڈ جمع کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے جس کے بعد ان کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے گا۔ سیکیورٹی بانڈ جمع کرانے کی تجویز وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کی سربراہی میں ہونے والے وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آئی۔قبل ازیں وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کی سربراہی میں ہوا جس میں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حوالے سے شہباز شریف کی درخواست پر غور کیا گیا۔اجلاس میں شہباز شریف کی نمائندگی نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان اور (ن) لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطا تارڑ نے کی جب کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے دو نمائندے اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر بھی اجلاس میں شریک تھے۔ نجی ٹی وی کے مطابق اجلاس میں حکومتی اراکین نے مؤقف اپنایا کہ نواز شریف کے علاج سے متعلق بیرون ملک روانگی کے لیے نیب کا واضح مؤقف درکار ہے تاہم اجلاس میں موجود نمائندوں نے واضح مؤقف دینے سے انکار کردیا جس پر ذیلی کمیٹی نے پراسیکویرٹر جنرل نیب کو طلب کیا۔ذرائع کے مطابق نیب حکام اجلاس میں مکمل ریکارڈ ساتھ نہیں لائیجس پر کمیٹی نے اجلاس ڈھائی بجے تک ملتوی کیا اور نیب کے رویے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح مؤقف پیش کرنے کی ہدایت دی۔کمیٹی کے سربراہ بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ اس حوالے سے میرٹ پر فیصلہ کیا جائے گا۔ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کامعاملہ تھوڑا پیچیدہ ہے،بہت سے دستاویزات نیب کو لانا تھیں،فریقین مکمل دستاویزات نہیں لائے جس کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے یہ شرط رکھی گئی کہ ضمانت کے طور پر انہیں سیکیورٹی بانڈ جمع کرانا ہوں گے۔ذرائع کے مطابق ضمانت وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کی طرف سے شہبازشریف کے نمائندے سے مانگی گئی ہے تاہم کمیٹی کا اجلاس کسی حتمی فیصلے کے بغیر ملتوی ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق اگر نواز شریف کی جانب سے سیکیورٹی بانڈ جمع کرادیا جاتا ہے تو ذیلی کمیٹی ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا اعلان کرسکتی ہے اور اب اس کے لیے وفاقی کابینہ سے مزید منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی۔

loading...