بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

طبل جنگ بج گیا، عمران خان کی چھٹی، نیا وزیراعظم کون ہوگا؟ ملتان کا مخدوم؟ لاہور کا خادم؟ یا پھر سندھ کا تجربہ کار؟ بڑی پیش گوئی کردی گئی

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) متوقع وزیراعظم کے ناموں پر غور شروع ہو گیا ہے، یہ بات سینئر صحافی حفیظ اللہ نیازی نے کہی، انہوں نے کہاکہ نواز شریف کے معاملے میں عمران خود کو بے بس محسوس کر رہے ہیں، واضح رہے کہ معروف تجزیہ کار غریدہ فاروقی نے اپنے کالم بیمار نواز، خاموش زرداری، تیز رفتاری مولانا اور عمران میں لکھا تھاکہ بیمار نواز شریف ہیں مگر زندگی اور موت کی جنگ حکومت لڑ رہی ہے۔

ضمانت کا وقتی ریلیف نواز شریف کو ملا ہے مگر سکھ کا سانس حکومت کا نکلا ہے کہ چلو عارضی ہی سہی مگر نواز شریف کی زندگی کا بوجھ ان کے کندھوں سے اترا تو۔انہوں نے اپنی تحریر میں مزید لکھا کہ حکومتی لوگوں کی ترجیحات دیکھیں تو لگتا ہے کہ انہیں فکر صرف اس بات کی ہے کہ کون سا اینکر کس کے پروگرام میں بیٹھا ہے اور حکومت کے بارے میں کیا رائے زنی کرتا ہے۔ گویا اینکرز کے منہ پر تالے لگوا دینے سے کاروبار اور معیشت پر لگے تالے کھل جائیں گے۔ گویا اینکرز کے ہاتھ باندھ دینے سے ٹیکوں کے خزانوں کی بوریوں پر بندھی رسیاں کھل جائیں گی۔ گویا اینکرز کے نہ بولنے سے گڈ گورننس کے ساتوں سُر تال میں آ جائیں گے۔ غریدہ فاروقی نے مزید لکھا کہ ادھر مولانا فضل الرحمٰن کو دیکھیے تو سندھ سے پنجاب تک کا سفر جس تیزی سے انہوں نے طے کیا ہے اور جتنا ہجوم ان کے ساتھ ہے، یہ حکومت کے لیے انتہائی تشویش ناک بات ہو سکتی ہے۔ میری اطلاع کے مطابق جے یو آئی ف محض معاہدے میں طے کردہ مقام تک ہی محدود نہیں رہے گی اور پیش قدمی کرنے کا ارادہ ضرور رکھتی ہے۔ حکومت بھی ایسی صورت حال میں سخت ایکشن کا واضح پیغام دے چکی ہے۔خدانخواستہ حالات تصادم کی طرف بڑھتے نظر آتے ہیں۔انہوں نے اپنے کالم میں مزید لکھاکہ اسلام آباد کی دھیرے دھیرے سرد ہوتی ہوائیں تو ممکنہ قومی حکومت کے سربراہان کی پیش گوئیاں بھی کرنے لگی ہیں۔ کہیں ملتان کے کسی مخدوم کا نام لیا جا رہا ہے تو کہیں لاہور کے کسی خادم کا۔

کہیں سندھ سے تعلق رکھنے والے ایسے وزیر کا جو ماضی میں صدر، چیئرمین سینیٹ اور وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں تو کہیں دبی دبی آوازیں عمر رسیدہ مگر جہاں دیدہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والی ایسی شخصیت کی طرف اشارہ کرتی نظر آتی ہیں جو ماضی میں قومی اسمبلی کی امامت بھی کر چکے۔ الغرض جتنے منہ اتنی باتیں اور اتنے ہی آپشنز، ایک بات تو کم از کم عیاں ہو رہی ہے کہ ’اگلا کون‘ پر بہرحال بات شروع ہو گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…