پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

طبل جنگ بج گیا، عمران خان کی چھٹی، نیا وزیراعظم کون ہوگا؟ ملتان کا مخدوم؟ لاہور کا خادم؟ یا پھر سندھ کا تجربہ کار؟ بڑی پیش گوئی کردی گئی

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) متوقع وزیراعظم کے ناموں پر غور شروع ہو گیا ہے، یہ بات سینئر صحافی حفیظ اللہ نیازی نے کہی، انہوں نے کہاکہ نواز شریف کے معاملے میں عمران خود کو بے بس محسوس کر رہے ہیں، واضح رہے کہ معروف تجزیہ کار غریدہ فاروقی نے اپنے کالم بیمار نواز، خاموش زرداری، تیز رفتاری مولانا اور عمران میں لکھا تھاکہ بیمار نواز شریف ہیں مگر زندگی اور موت کی جنگ حکومت لڑ رہی ہے۔

ضمانت کا وقتی ریلیف نواز شریف کو ملا ہے مگر سکھ کا سانس حکومت کا نکلا ہے کہ چلو عارضی ہی سہی مگر نواز شریف کی زندگی کا بوجھ ان کے کندھوں سے اترا تو۔انہوں نے اپنی تحریر میں مزید لکھا کہ حکومتی لوگوں کی ترجیحات دیکھیں تو لگتا ہے کہ انہیں فکر صرف اس بات کی ہے کہ کون سا اینکر کس کے پروگرام میں بیٹھا ہے اور حکومت کے بارے میں کیا رائے زنی کرتا ہے۔ گویا اینکرز کے منہ پر تالے لگوا دینے سے کاروبار اور معیشت پر لگے تالے کھل جائیں گے۔ گویا اینکرز کے ہاتھ باندھ دینے سے ٹیکوں کے خزانوں کی بوریوں پر بندھی رسیاں کھل جائیں گی۔ گویا اینکرز کے نہ بولنے سے گڈ گورننس کے ساتوں سُر تال میں آ جائیں گے۔ غریدہ فاروقی نے مزید لکھا کہ ادھر مولانا فضل الرحمٰن کو دیکھیے تو سندھ سے پنجاب تک کا سفر جس تیزی سے انہوں نے طے کیا ہے اور جتنا ہجوم ان کے ساتھ ہے، یہ حکومت کے لیے انتہائی تشویش ناک بات ہو سکتی ہے۔ میری اطلاع کے مطابق جے یو آئی ف محض معاہدے میں طے کردہ مقام تک ہی محدود نہیں رہے گی اور پیش قدمی کرنے کا ارادہ ضرور رکھتی ہے۔ حکومت بھی ایسی صورت حال میں سخت ایکشن کا واضح پیغام دے چکی ہے۔خدانخواستہ حالات تصادم کی طرف بڑھتے نظر آتے ہیں۔انہوں نے اپنے کالم میں مزید لکھاکہ اسلام آباد کی دھیرے دھیرے سرد ہوتی ہوائیں تو ممکنہ قومی حکومت کے سربراہان کی پیش گوئیاں بھی کرنے لگی ہیں۔ کہیں ملتان کے کسی مخدوم کا نام لیا جا رہا ہے تو کہیں لاہور کے کسی خادم کا۔

کہیں سندھ سے تعلق رکھنے والے ایسے وزیر کا جو ماضی میں صدر، چیئرمین سینیٹ اور وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں تو کہیں دبی دبی آوازیں عمر رسیدہ مگر جہاں دیدہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والی ایسی شخصیت کی طرف اشارہ کرتی نظر آتی ہیں جو ماضی میں قومی اسمبلی کی امامت بھی کر چکے۔ الغرض جتنے منہ اتنی باتیں اور اتنے ہی آپشنز، ایک بات تو کم از کم عیاں ہو رہی ہے کہ ’اگلا کون‘ پر بہرحال بات شروع ہو گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…