ہفتہ‬‮ ، 11 جولائی‬‮ 2026 

طبل جنگ بج گیا، عمران خان کی چھٹی، نیا وزیراعظم کون ہوگا؟ ملتان کا مخدوم؟ لاہور کا خادم؟ یا پھر سندھ کا تجربہ کار؟ بڑی پیش گوئی کردی گئی

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) متوقع وزیراعظم کے ناموں پر غور شروع ہو گیا ہے، یہ بات سینئر صحافی حفیظ اللہ نیازی نے کہی، انہوں نے کہاکہ نواز شریف کے معاملے میں عمران خود کو بے بس محسوس کر رہے ہیں، واضح رہے کہ معروف تجزیہ کار غریدہ فاروقی نے اپنے کالم بیمار نواز، خاموش زرداری، تیز رفتاری مولانا اور عمران میں لکھا تھاکہ بیمار نواز شریف ہیں مگر زندگی اور موت کی جنگ حکومت لڑ رہی ہے۔

ضمانت کا وقتی ریلیف نواز شریف کو ملا ہے مگر سکھ کا سانس حکومت کا نکلا ہے کہ چلو عارضی ہی سہی مگر نواز شریف کی زندگی کا بوجھ ان کے کندھوں سے اترا تو۔انہوں نے اپنی تحریر میں مزید لکھا کہ حکومتی لوگوں کی ترجیحات دیکھیں تو لگتا ہے کہ انہیں فکر صرف اس بات کی ہے کہ کون سا اینکر کس کے پروگرام میں بیٹھا ہے اور حکومت کے بارے میں کیا رائے زنی کرتا ہے۔ گویا اینکرز کے منہ پر تالے لگوا دینے سے کاروبار اور معیشت پر لگے تالے کھل جائیں گے۔ گویا اینکرز کے ہاتھ باندھ دینے سے ٹیکوں کے خزانوں کی بوریوں پر بندھی رسیاں کھل جائیں گی۔ گویا اینکرز کے نہ بولنے سے گڈ گورننس کے ساتوں سُر تال میں آ جائیں گے۔ غریدہ فاروقی نے مزید لکھا کہ ادھر مولانا فضل الرحمٰن کو دیکھیے تو سندھ سے پنجاب تک کا سفر جس تیزی سے انہوں نے طے کیا ہے اور جتنا ہجوم ان کے ساتھ ہے، یہ حکومت کے لیے انتہائی تشویش ناک بات ہو سکتی ہے۔ میری اطلاع کے مطابق جے یو آئی ف محض معاہدے میں طے کردہ مقام تک ہی محدود نہیں رہے گی اور پیش قدمی کرنے کا ارادہ ضرور رکھتی ہے۔ حکومت بھی ایسی صورت حال میں سخت ایکشن کا واضح پیغام دے چکی ہے۔خدانخواستہ حالات تصادم کی طرف بڑھتے نظر آتے ہیں۔انہوں نے اپنے کالم میں مزید لکھاکہ اسلام آباد کی دھیرے دھیرے سرد ہوتی ہوائیں تو ممکنہ قومی حکومت کے سربراہان کی پیش گوئیاں بھی کرنے لگی ہیں۔ کہیں ملتان کے کسی مخدوم کا نام لیا جا رہا ہے تو کہیں لاہور کے کسی خادم کا۔

کہیں سندھ سے تعلق رکھنے والے ایسے وزیر کا جو ماضی میں صدر، چیئرمین سینیٹ اور وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں تو کہیں دبی دبی آوازیں عمر رسیدہ مگر جہاں دیدہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والی ایسی شخصیت کی طرف اشارہ کرتی نظر آتی ہیں جو ماضی میں قومی اسمبلی کی امامت بھی کر چکے۔ الغرض جتنے منہ اتنی باتیں اور اتنے ہی آپشنز، ایک بات تو کم از کم عیاں ہو رہی ہے کہ ’اگلا کون‘ پر بہرحال بات شروع ہو گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وراثت


بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…