جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

سیلفی لینے کی کوشش، مولانا فضل الرحمان شدید غصے میں آ گئے، کارکن کے ساتھ سٹیج پر ایسا کام کر دیا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا، افسوسناک صورتحال

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) آزادی مارچ میں خطاب کرنے کے بعد مولانا فضل الرحمان واپس جا رہے تھے کہ اسی دوران ایک کارکن نے ان کے ساتھ سیلفی لینے کی کوشش کی، جس پر مولانا فضل الرحمان غصے میں آ گئے اور انہوں نے اس کارکن کے پیٹ میں مارتے ہوئے دھکا دیا، دھکا دینے کی یہ ویڈیو ایک نجی ٹی وی چینل نے حاصل کر لی جو اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ آپ نے کہہ دیا ہے ہم غیر جانبدار ہیں اس کے بعد جھگڑا ہی ختم ہوجاتاہے،قومی ادارں کو سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہتے ،ووٹ قوم کی امانت ہے ہمیں واپس لو ٹا دیں،عمران خان ن ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے اپنی بہن کی منی لانڈرنگ چھائی ہے،ہم اس حکومت اور وزیر اعظم کو این آ ر او نہیں دینگے،بے معنی آنی جانیاں نہیں ہونی چاہئیں، مذاکراتی کمیٹی آئے تو استعفیٰ لیکر آئے۔ جمعرات کو یہاں آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے اپنی بہن کی منی لانڈرنگ چھپائی اور یہ سیاستدانوں سے کہتے ہیں کہ انہیں این آر او نہیں دیں گے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس اسٹیج پر مجھے یہ کہنے کا حق پہنچتا ہے کہ اب ہم اس حکومت اور وزیراعظم کو این آر او نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہمشیرہ نے 60 ارب روپے دبئی کے بینکوں میں کیسے رکھے؟ وہ کون سی قوت ہے کہ جس نے دھاندلی کے ذریعے اس کو کرسی تک پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ 2018الیکشن میں دن دیہاڑیدھاندلی ہوئی،کہتے ہیں کمیشن بنایاجائے کہ دھاندلی ہوئی ہے کہ نہیں،فارن فنڈنگ کیس 5سال سے الیکشن کمیشن میں لٹک رہاہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارا پلان صرف اے بی سی نہیں ہمارا زیڈ تک پلان ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ میں پاک فو ج کے ترجمان کے گزشتہ روز کے بیان کا خیر مقدم کرتا ہوں، آپ نے کہہ دیا ہے کہ ہم غیر جانبدار ہیں اس کے بعد جھگڑا ہی ختم ہو جاتاہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ قومی اداروں کو ہم سیاست میں نہیں گھیسٹنا چاہتے۔انہوں نے کہاکہ وہ دن بھی یاد ہوگا جب ہمارے پاک فوج کے جوانوں نے بھارت کا طیارہ گرایا اور پائلٹ کو پکڑا اور ہمارے ملک کے تمام نو جوانوں نے پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا اور شاباش دی ہے، آج بھی یہ وہی لوگ ہیں لیکن گلا اپنوں سے ہوتا ہے،گلا شکوہ اپنانیت کی علامت ہوتی ہے دشمنی کی نہیں ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ پاک آرمی کے ذکر پر شرکاء نے پاک فوج زندہ باد کے نعرے بھی لگائے۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…