بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

سیلفی لینے کی کوشش، مولانا فضل الرحمان شدید غصے میں آ گئے، کارکن کے ساتھ سٹیج پر ایسا کام کر دیا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا، افسوسناک صورتحال

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) آزادی مارچ میں خطاب کرنے کے بعد مولانا فضل الرحمان واپس جا رہے تھے کہ اسی دوران ایک کارکن نے ان کے ساتھ سیلفی لینے کی کوشش کی، جس پر مولانا فضل الرحمان غصے میں آ گئے اور انہوں نے اس کارکن کے پیٹ میں مارتے ہوئے دھکا دیا، دھکا دینے کی یہ ویڈیو ایک نجی ٹی وی چینل نے حاصل کر لی جو اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ آپ نے کہہ دیا ہے ہم غیر جانبدار ہیں اس کے بعد جھگڑا ہی ختم ہوجاتاہے،قومی ادارں کو سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہتے ،ووٹ قوم کی امانت ہے ہمیں واپس لو ٹا دیں،عمران خان ن ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے اپنی بہن کی منی لانڈرنگ چھائی ہے،ہم اس حکومت اور وزیر اعظم کو این آ ر او نہیں دینگے،بے معنی آنی جانیاں نہیں ہونی چاہئیں، مذاکراتی کمیٹی آئے تو استعفیٰ لیکر آئے۔ جمعرات کو یہاں آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے اپنی بہن کی منی لانڈرنگ چھپائی اور یہ سیاستدانوں سے کہتے ہیں کہ انہیں این آر او نہیں دیں گے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس اسٹیج پر مجھے یہ کہنے کا حق پہنچتا ہے کہ اب ہم اس حکومت اور وزیراعظم کو این آر او نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہمشیرہ نے 60 ارب روپے دبئی کے بینکوں میں کیسے رکھے؟ وہ کون سی قوت ہے کہ جس نے دھاندلی کے ذریعے اس کو کرسی تک پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ 2018الیکشن میں دن دیہاڑیدھاندلی ہوئی،کہتے ہیں کمیشن بنایاجائے کہ دھاندلی ہوئی ہے کہ نہیں،فارن فنڈنگ کیس 5سال سے الیکشن کمیشن میں لٹک رہاہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارا پلان صرف اے بی سی نہیں ہمارا زیڈ تک پلان ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ میں پاک فو ج کے ترجمان کے گزشتہ روز کے بیان کا خیر مقدم کرتا ہوں، آپ نے کہہ دیا ہے کہ ہم غیر جانبدار ہیں اس کے بعد جھگڑا ہی ختم ہو جاتاہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ قومی اداروں کو ہم سیاست میں نہیں گھیسٹنا چاہتے۔انہوں نے کہاکہ وہ دن بھی یاد ہوگا جب ہمارے پاک فوج کے جوانوں نے بھارت کا طیارہ گرایا اور پائلٹ کو پکڑا اور ہمارے ملک کے تمام نو جوانوں نے پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا اور شاباش دی ہے، آج بھی یہ وہی لوگ ہیں لیکن گلا اپنوں سے ہوتا ہے،گلا شکوہ اپنانیت کی علامت ہوتی ہے دشمنی کی نہیں ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ پاک آرمی کے ذکر پر شرکاء نے پاک فوج زندہ باد کے نعرے بھی لگائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…