ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

 اسلام آباد سیر کے لئے نہیں بلکہ کس لئے جارہے ہیں؟اس وقت تک واپس نہیں آئیں گے جب تک کون سا کام نہیں ہوجاتا؟جے یو آئی (ف) نے حتمی اعلان کردیا

datetime 31  اکتوبر‬‮  2019 |

بنوں (این این آ ئی) رہبر کمیٹی کے چیئرمین اپوزیشن لیڈر اکرم خان دُرانی نے آزادی مارچ میں شرکت کیلئے روانگی سے قبل بعد ازاں لنک روڈ چوک کے مقام پر ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسلام آباد سیر کے لئے نہیں بلکہ وزیر اعظم کا استعفیٰ لینے جا رہے ہیں اور ہمیں مکمل یقین ہے کہ ہم عوام کو اس کرپٹ اور سلیکٹیڈ وزیراعظم سے نجات دلاکے رہیں گے

ریلی کے شرکاء کا عزم اس بات کا آئنہ دارہے کہ عوام موجودہ حکومت سے مزید تنگ آچکے ہیں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر حکمرانوں کو بہا کر لے جائیگا راستہ میں رکاوٹ ڈالی گئی تو ساتھ بہا لیں گے اس وقت پورا ملک کے عوام اُٹھ چکے ہیں کہ موجودہ حکومت بندوق کے زور پر مسلط کی گئی ہے، آزادی مارچ میں شریک پی پی پی کی قیادت ملک اشفاق خان، ملک شعیب خان، حاجی ظفر علی خان کر رہے تھے جبکہ جے یو آئی کے دستوں کی قیادت اکرم خان درانی کر رہے تھے اسی طرح عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر تیمور باز خان ایڈووکیٹ کی قیادت میں الگ ریلی آزادی مارچ میں اسلام آباد گئی، اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی نے کہا کہ ہمارا ایک ہی ایجنڈا ہے اور ہم اس سے ایک فیصد بھی پیچھے نہیں ہٹے کہ وزیراعظم عوام کو مزید معاف کرے اور استعفیٰ دے کر از سر نو انتخابات کرائے کیونکہ ان کو جتنے ووٹ ملے ہیں ان سے زیادہ لوگ ان کے خلاف آزادی ریلی میں ان کے خلاف شریک ہیں اگر میں اس میں تھوڑی بھی غیرت ہے تو آزدی مارچ کے پہنچنے سے استعفیٰ دے اس کے علاوہ آئین میں جو اسلامی دفعات شامل ہیں ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے انہوں نے کہاکہ اس وقت لوگوں کا سمندر انڈس ہائی وے پر رواں دواں ہے جس میں تمام اتحادی جماعتوں کے کارکن شامل ہیں اور ان سب کا مطالبہ مشترکہ ہے اُنہوں نے مزید کہا کہ آزادی مارچ کے قافلے اسلام آباد پہنچ کر وہاں قائدین لائحہ عمل طے کریں گے کہ مارچ صرف مارچ کرنا ہے یا دھرنا دینا ہے لیکن ایک بات ضرور طے ہے کہ ہم اس وقت تک واپس نہیں آئیں گے جب تک وزیراعظم کو گھر کا راستہ نہ دکھائیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…