منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

 اسلام آباد سیر کے لئے نہیں بلکہ کس لئے جارہے ہیں؟اس وقت تک واپس نہیں آئیں گے جب تک کون سا کام نہیں ہوجاتا؟جے یو آئی (ف) نے حتمی اعلان کردیا

datetime 31  اکتوبر‬‮  2019 |

بنوں (این این آ ئی) رہبر کمیٹی کے چیئرمین اپوزیشن لیڈر اکرم خان دُرانی نے آزادی مارچ میں شرکت کیلئے روانگی سے قبل بعد ازاں لنک روڈ چوک کے مقام پر ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسلام آباد سیر کے لئے نہیں بلکہ وزیر اعظم کا استعفیٰ لینے جا رہے ہیں اور ہمیں مکمل یقین ہے کہ ہم عوام کو اس کرپٹ اور سلیکٹیڈ وزیراعظم سے نجات دلاکے رہیں گے

ریلی کے شرکاء کا عزم اس بات کا آئنہ دارہے کہ عوام موجودہ حکومت سے مزید تنگ آچکے ہیں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر حکمرانوں کو بہا کر لے جائیگا راستہ میں رکاوٹ ڈالی گئی تو ساتھ بہا لیں گے اس وقت پورا ملک کے عوام اُٹھ چکے ہیں کہ موجودہ حکومت بندوق کے زور پر مسلط کی گئی ہے، آزادی مارچ میں شریک پی پی پی کی قیادت ملک اشفاق خان، ملک شعیب خان، حاجی ظفر علی خان کر رہے تھے جبکہ جے یو آئی کے دستوں کی قیادت اکرم خان درانی کر رہے تھے اسی طرح عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر تیمور باز خان ایڈووکیٹ کی قیادت میں الگ ریلی آزادی مارچ میں اسلام آباد گئی، اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی نے کہا کہ ہمارا ایک ہی ایجنڈا ہے اور ہم اس سے ایک فیصد بھی پیچھے نہیں ہٹے کہ وزیراعظم عوام کو مزید معاف کرے اور استعفیٰ دے کر از سر نو انتخابات کرائے کیونکہ ان کو جتنے ووٹ ملے ہیں ان سے زیادہ لوگ ان کے خلاف آزادی ریلی میں ان کے خلاف شریک ہیں اگر میں اس میں تھوڑی بھی غیرت ہے تو آزدی مارچ کے پہنچنے سے استعفیٰ دے اس کے علاوہ آئین میں جو اسلامی دفعات شامل ہیں ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے انہوں نے کہاکہ اس وقت لوگوں کا سمندر انڈس ہائی وے پر رواں دواں ہے جس میں تمام اتحادی جماعتوں کے کارکن شامل ہیں اور ان سب کا مطالبہ مشترکہ ہے اُنہوں نے مزید کہا کہ آزادی مارچ کے قافلے اسلام آباد پہنچ کر وہاں قائدین لائحہ عمل طے کریں گے کہ مارچ صرف مارچ کرنا ہے یا دھرنا دینا ہے لیکن ایک بات ضرور طے ہے کہ ہم اس وقت تک واپس نہیں آئیں گے جب تک وزیراعظم کو گھر کا راستہ نہ دکھائیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…