بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

وزیراعظم کے استعفیٰ سے دستبرداری۔۔۔مولانا فضل الرحمان ‎نے اسلام آباد پہنچنے سے قبل بڑا اعلان کر دیا

datetime 27  اکتوبر‬‮  2019 |

سہراب گوٹھ(آن لائن) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے استعفیٰ سے دستبردار نہیں ہوں گے،ہم ان کی طرز حکمرانی تسلیم نہیں کرتے،حافظ حمد اللہ کی شہریت منسوخی کا فیصلہ مضحکہ خیز ہے ،کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی منزل تک جدوجہد جاری رہے گی ۔

اتوار کے روز جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم وزیراعظم عمران خان کے استعفیٰ کے فیصلے سے دستبردار نہیں ہوئے،یہ پاکستان کا حکمران نہیں بلکہ جبر، دھاندلی اور چوری کی بنیاد پر حکمران مسلط ہو گیا ہے، ہم ان کے انتخاب ،نتیجے اور طرز حکمرانی کو تسلیم نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے حافظ حمد اللہ کی شہریت منسوخ کرکے مضحکہ خیز فیصلہ کیا ،ان کے فیصلوں کا دنیا میں مذاق اڑایا جا رہا ہے ،اس طرح کے فیصلوں پر تحریک انصاف کی حکومت کو شرم آنی چاہیے۔فضل الرحمان نے کہا کہ ہم مشکل گھڑی میں کشمیریوں کیساتھ کھڑے ہیں ،ان کے حق خود ارادیت کی منزل تک یہ سفر جاری رہے گا،او آئی سی اور دیگر عالمی تنظیمں کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لیں ،پاکستانی قوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر خاموش نہیں رہ سکتی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے اندر انسانی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے ،کشمیریوں کو خراج عقیدت جنہوں نے جہاد کا علم بلند کیا اور ہندو سامراج کو پیچھے دھکیل دیا۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…