جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

نواز شریف کے بعد مریم نواز کی بھی طبی بنیادوں پر ضمانت، اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان نے وضاحت کر دی

datetime 26  اکتوبر‬‮  2019 |

ٓاسلام آباد(آن لائن) اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان نے کہا ہے کہنواز شریف کو کسی حکومتی ڈاکٹر کو دیکھنے کی اجازت نہیں تھی، ان کے ساتھ جوکچھ بھی کیا ان کے ذاتی ڈاکٹرز نے کیا،ہم کیسے زندگی اور موت کی گارنٹی دے سکتے ہیں،عدالت جو فیصلہ کرے گی ہم اس پرمن و عن عمل کریں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا ہے کہ عدالت نے ہمیں شام دو بجے نوٹس دیا اور کہا کہ چار بجے آپ حاضر ہو جائیں،

اس کیس میں ہم نے نہ تو فریق تھے اور نہ ہی ہمارے پاس فائل تھی اور نہ ہمیں پتہ تھا۔ جب چار بجے ہمارے وکیل عدالت پہنچے تو ہمیں کہا گیا کہ آپ یہ بیان حلفی دیں اور گارنٹی دیں کہ نواز شریف کا ادھر انتقال نہیں ہوگا۔ یہ تو کوئی طریقہ نہیں کہ ہم کسی کی زندگی کی گارنٹی دیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیب کا کیس تھا اور وہ ہی اس میں فریق تھا اسلئے انہوں نے ہی جواب دینا تھا اور نیب نے عدالت میں جو جواب دیا وہ اپنی جگہ ہے۔ نیب نے کہا کہ نواز شریف ہماری کسٹڈی میں نہیں ہے اسلئے ریاست اس حوالے سے جواب دے اور ترمیم کے تحت پنجاب حکومت نے اس حوالے سے جواب دینا تھا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ عدالت جو فیصلہ کرے گی ہم اس کا احترام کرینگے۔ مگر عدالت بار بار یہ کہا کہ اس کے اندر کوئی گیم ہے آپ جواب دیں لیکن یہ ظاہر ہے کہ زندگی اور موت کی کوئی انسان گارنٹی نہیں دے سکتا۔ اسلئے ہم سب نے واضح طور پر کہا کہ ہم نواز شریف کی زندگی اور موت کی گارنٹی نہیں دے سکتے۔ عدالت جو فیصلہ کرے گی ہم اس پ رمن و عن عمل کریں گے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ نواز شریف کو کسی گورنمنٹ ڈاکٹر کو دیکھنے کی اجازت نہیں تھی، ان کے اپنے ڈاکٹرز شریف میڈیکل سے آئے تھے اور وہ اپنی مرضی سے علاج کرتے تھے اور نواز شریف سی گورنمنٹ ڈاکٹر کو اپنے علاج کی اجازت نہیں دیتے تھے اور جو کچھ بھی نواز شریف کے ساتھ کیا ہے وہ ان کے اپنے ڈاکٹرز نے کیا ہے۔

جب ان کے پلیٹ لٹس کم ہوئے تھے تو ان کے ڈاکٹرز کو چاہیے تھا کہ وہ معاملہ کو کنٹرول کرتے، ان کے مکمل ٹیسٹ کرتے اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو غلطی ان کے ذاتی ڈاکٹرز کی ہے۔ اس پر حکومت کو قصور وار نہیں ٹھہرایا جاسکتا کیونکہ حکومت کو ان کے علاج کی اجازت نہیں تھی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر نواز شریف کو ضمانت مل سکتی ہے تو اس غریب شخص کا کیا قصور ہے جو بیماری سے جیل میں لڑ رہا ہے تو اس کو کیوں ضمانت نہیں دی جاتی۔ خدارا قانون کو اس سطح پر نہ لے جائیں جہاں غریب آدمی بھی اٹھ کر کھڑا ہوجائے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت چاہے تو مریم نواز کو ضمانت دے سکتی ہے، طبی بنیادوں پر قانون مریم نواز کو ضمانت دینے کی اجازت نہیں دیتا۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…