ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، مولانا فضل الرحمان نے انصار الاسلام پر پابندی کا حکومتی فیصلہ مسترد کر دیا

datetime 25  اکتوبر‬‮  2019 |

لاڑکانہ(این این آئی)جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آزادی مارچ انشاء اللہ مقررہ وقت پر شروع ہو گا، 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخلہ ہونگے، انصار الاسلام پر پابندی کا حکومتی فیصلہ مسترد کرتے ہیں، اس پر عملدرآمد نہیں کریں گے۔میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دئیے ہیں، ہمارے رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں،

ایسے میں ایک انچ بھی پیچھے ہٹنا نہیں چاہیں گے۔جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارے ساتھ اس کے برعکس وعدہ کیا گیا تھا، اسلام آباد میں دکانداروں کو کہا جا رہا ہے کہ ان کے ساتھ کسی قسم کا کاروبار بھی نہیں کرنا۔انکا کہنا تھا کہ جے یو آئی کی ذیلی تنظیم پر پابندی کا نوٹی فکیشن جاری ہوا ہے، انصار الاسلام جمعیت کا اہم شعبہ ہے،انصار الاسلام پر پابندی کا حکومتی فیصلہ مسترد کرتے ہیں عملدرآمد نہیں کریں گے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میڈیا پر انصار الاسلام کی فوٹیج چلائی جا رہی ہیں وہ پشاور کی ہے۔ اس کی اجازت ڈپٹی کمشنر نے دی۔ رضاکاروں کو روکنے والی اتنی بزدل حکومت نہیں دیکھی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی اپنی آف شور کمپنیز ہیں، وہ جھوٹ بول رہے ہیں، وزیر اعظم اپنی بہنوں کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ اتنی ننگی حکومت کبھی نہیں دیکھی، جب تک شائستہ حکومتیں تھیں ہم شائستہ رہے۔ اب تھوپی گئی حکومت کی پالیسز سے ہم لڑیں گے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ اسمبلی جعلی ہے، اتنی دھاندلی اور اتنی نااہل حکومت آج تک نہیں دیکھی، عالمی رپورٹ کے مطابق اس حکومت میں کرپشن میں اضافہ ہوا، میں نے رہبر کمیٹی کو ہدایت دے دی ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کو طول نہ دیا جائے اس سے مارچ متاثر ہو سکتا ہے، حکومت کے سامنے چارٹر آف ڈیمانڈ واضح کر دیا جائے اور بتایا جائے کہ وزیراعظم کے استعفیٰ سے پیچھے نہیں ہٹا جائے گا۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ نواز شریف نے قربانی دی ہے اگر ان کی حالت زیادہ دن اسی طرح رہتی توان کا جنازہ نکلتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…