منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

دھرنا دیں گے حکومت روک سکتی ہے تو روک لے، پیر عبدالشکور نقشبندی نے حکومت کو دھمکی دیتے ہوئے عوام سے بڑی اپیل کر دی

datetime 25  اکتوبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما پیر عبد الشکور نقشبندی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ ان ظالم حکمرانوں سے نجات کے لئے ہے،عوام خود کھڑے ہوں، جعلی الیکشن کے ذریعے آنے والوں کو ایوانوں سے نکال کر دم لیں،ایوان الیکٹیڈ کے لئے ہے سلیکٹیڈ کے لئے نہیں،ہم 27 اکتوبر کو نکلیں گے اور 31 اکتوبر کو اسلام آباد مین دھرنا دیں گے،حکومت روک سکتی ہے تو روک لے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے”این این آئی“سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکمرانوں کی نااہلی نے ملک کو دوراہے پہ لاکھڑا کر دیا ہے ایک طرف معاشی عدم استحکام، دوسری طرف سیاسی عدم استحکام اور تیسری طرف حکمرانوں کی نا اہلیاں ہیں۔ ہم کل تک ریاست جموں و کشمیر کی آزادی، سری نگر میں پاکستان کا پرچم لہرانے کی بات کرتے تھے لیکن آج ہمارے حکمران چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ مظفر آباد بچانا ہے۔ کیا یہ ہماری ناکامی اور کشمیر کا سودا نہیں؟ مودی سمیت بھارت کے کسی بھی حکمران کو ماضی میں اتنی جرات نہیں ہوئی کہ وہ کشمیر کی سالمیت پر اس طرح حملہ کرے۔ موجودہ حکمرانوں کی نا اہلی یا ان کی ملی بھگت سے کشمیر آج ایک جیل میں تبدیل ہوچکا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکمران قادیانیوں کو مسلسل موقع دے رہے ہیں کہ وہ پاکستان کے خلاف سازشیں کریں۔آسیہ مسیح کو ان حکمرانوں نے ملک سے نکال کر بھیج دیا۔قادیانی عبد الشکور کو جیل سے نکال کر امریکی صدر تک پہنچانے میں ان حکمرانوں کا ہی کردار ہے۔ انہوں نے عوام پر مہنگائی کا طوفان آچکا ہے۔ ملک کا تاجر، ملک کا صحافی، ملک کا طالب علم ہر شعبہ کے لوگ پریشان ہیں اور دن بہ دن بدترین صورتحال سے دوچار ہو رہاہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ حکمرانوں کے ظلم کی چکی میں پسے ہوئے عوام کی آواز ہے۔ تبدیلی کے نام پر ملک کی نظریاتی سر حدوں پر حملے کئے جارہے ہیں اور جغرافیائی سرحدوں پر ملک دشمن حملہ کر رہا ہے جس کی کامیابی کی خواہش اور دعا موجودہ حکمرانوں نے کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…