بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

1کروڑ روپے دئیے اور معاملات طے۔۔۔عمران خان نے سانحہ ساہیوال کب اور کیسے سیٹل کروایا تھا؟ کئی ماہ بعد اہم خبر سامنے آگئی

datetime 25  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی رئوف کلاسرا نے کہا ہے کہ سانحہ ساہیوال کا مسئلہ ایک دن میں حل ہوا جبکہ عمران خان گورنر ہائوس گئے تھے اور وہاں متاثرہ بچوں میں ایک کروڑ روپے کیش دیئے گئے تھے ۔ کیس وہی پر سیٹل ہو گیا تھااور خاندان کیساتھ بھی معاملات طے ہو گئے تھے ۔ معروف صحافی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان سانحہ ساہیوال پر سنجیدہ نہیں تھے اگر وہ سنجیدہ ہوتے تو بچوں کو ایک کروڑ روپے نہ دیئے جاتے ۔ رئوف کلاسرا کا مزید کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں ایک لڑکی کیساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آیا ،

بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد متاثرہ لڑکی کے گھر گئیں اور انہیں یقین دہانی دلائی کہ آپ کو ہر صورت انصاف ملے گا اس کیس کی وجہ وہاں پر عدالت 16افراد کو پھانسی دیدی۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹر پر پیغام جاری کیا تھا کہ’’ ساہیوال واقعے پر عوام میں پایا جانے والا غم و غصہ بالکل جائز اور قابلِ فہم ہے۔ میں قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ قطر سے واپسی پر نہ صرف یہ کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کو عبرت ناک سزا دی جائے گی بلکہ میں پنجاب پولیس کے پورے ڈھانچے کا جائزہ لوں گا اور اس کی اصلاح کا آغاز کروں گا۔‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…