جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

حکومت کو ایک اور بڑا جھٹکا، ناقص پالیسیوں کا الزام،انجمن تاجران مسلسل دو دن شٹرڈاؤن ہڑتال کا اعلان کردیا

datetime 24  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)صدر انجمن تاجران اجمل بلوچ  نے کہاہے کہ 29 اور 30 اکتوبر کو ہر صورت  ہڑتال ہوگی اور پورے پاکستان میں تاجر کاروبار نہیں کرینگے شٹرڈاؤن ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزنیشنل پریس کلب اسلام  آباد  میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے  کیا۔انہوں نے کہا کہ 9 اکتوبر کو بھی ملک کا کوئی بھی ضلع ایسا نہیں تھا جہاں سے تاجرتنظیم کے نمائندہ نے اسلام آباد آ کر اپنا احتجاج ریکارڈ نہ کروایا ہو۔

اجمل بلوچ نے کہا کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے آج تاجر برادری ہڑتالوں پر مجبور ہیں، وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کی جانب سے سکرین پر بیٹھ کر بیان جاری کیے جاتے ہیں کہ تاجر ٹیکس نہیں ادا کرنا چاہتے اسلئے شناختی کارڈ نہیں دیتے، جبکہ جس قانون کی لڑائی ہم لڑ رہے ہیں اس میں صرف سیلز ٹیکس میں ررجسٹریشن کیلئے کہا گیا ہے ٹیکس کی ادائیگی کیلئے نہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت ہمارے ذریعے مینو فیکچرر تک پہنچنا چاہتی ہے،حکومت کے مطابق مینوفیکچرر چور ہے اگر ایسا ہے تو ایف بی آر کے لوگ بھی اس چوری میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ مینوفیکچرر کے ساتھ ایف بی آر کا انسپکٹر ہوتا ہے جو اس کی انسپیکشن کرتا ہے۔اجمل بلوچ نے کہا ایف بی آر کے متعلق تو سپریم کورٹ بھی کہہ چکی کہ اس ادارے کو بند کردینا چاہیے کیونکہ 80 فیصد ٹیکسز انڈائریکٹ وصول کیے جا رہے ہیں، ایف بی آر اور آئی ایم ایف میں کوئی فرق نہیں دونوں ملک کیلئے نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ 41ہزار لوگوں تک پہنچنے کیلئے حکومت نے 41لاکھ لوگوں کو مصیبت میں ڈال رکھا ہے، جبکہ قانون کے مطابق سیلز ٹیکس گاہک ادا کرتا ہے جہاں تک بات انکم ٹیکس کی ہی تو تمام تاجران ادا کرتے ہیں، سیلز ٹیکس گاہک کی جیب سے جاتا ہے۔اجمل بلوچ نے کہا کہ عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے کرپشن کو ختم کرنے کی بات کرتے تھے مگر اب وہ یہ نہیں دیکھ رہے کہ

ایف بی آر میں کتنے بڑے پیمانے پر کرپشن کی جارہی ہے، اگر کوئی مینو فیکچرر چوری کرتا ہے تو اس میں بھی ایف بی آر کے نمائندگان رشوت لیکر برابر کے حصہ دار ہوتے ہیں۔اجمل بلوچ نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وزیرا عظم عمران خان اگر پرائم منسٹر ہاؤس کو یونیورسٹی بنا رہے ہیں تو ایف بی آر کو مسجد بنا دیں اور اس میں نماز تاجر برادری پڑھا دیا کرے گی۔صدر انجمن تاجران نے کہا کہ حکومت کو مسئلے کا حل نکالنا چاہیے۔آخر میں  انہوں نے  حکومت سے مطالبہ کیا کہ  مولانافضل الرحمن کے آزادی مارچ کو مخصوص جگہ تک رکھنا چاہیے

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…