ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

حکومت کو ایک اور بڑا جھٹکا، ناقص پالیسیوں کا الزام،انجمن تاجران مسلسل دو دن شٹرڈاؤن ہڑتال کا اعلان کردیا

datetime 24  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)صدر انجمن تاجران اجمل بلوچ  نے کہاہے کہ 29 اور 30 اکتوبر کو ہر صورت  ہڑتال ہوگی اور پورے پاکستان میں تاجر کاروبار نہیں کرینگے شٹرڈاؤن ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزنیشنل پریس کلب اسلام  آباد  میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے  کیا۔انہوں نے کہا کہ 9 اکتوبر کو بھی ملک کا کوئی بھی ضلع ایسا نہیں تھا جہاں سے تاجرتنظیم کے نمائندہ نے اسلام آباد آ کر اپنا احتجاج ریکارڈ نہ کروایا ہو۔

اجمل بلوچ نے کہا کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے آج تاجر برادری ہڑتالوں پر مجبور ہیں، وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کی جانب سے سکرین پر بیٹھ کر بیان جاری کیے جاتے ہیں کہ تاجر ٹیکس نہیں ادا کرنا چاہتے اسلئے شناختی کارڈ نہیں دیتے، جبکہ جس قانون کی لڑائی ہم لڑ رہے ہیں اس میں صرف سیلز ٹیکس میں ررجسٹریشن کیلئے کہا گیا ہے ٹیکس کی ادائیگی کیلئے نہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت ہمارے ذریعے مینو فیکچرر تک پہنچنا چاہتی ہے،حکومت کے مطابق مینوفیکچرر چور ہے اگر ایسا ہے تو ایف بی آر کے لوگ بھی اس چوری میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ مینوفیکچرر کے ساتھ ایف بی آر کا انسپکٹر ہوتا ہے جو اس کی انسپیکشن کرتا ہے۔اجمل بلوچ نے کہا ایف بی آر کے متعلق تو سپریم کورٹ بھی کہہ چکی کہ اس ادارے کو بند کردینا چاہیے کیونکہ 80 فیصد ٹیکسز انڈائریکٹ وصول کیے جا رہے ہیں، ایف بی آر اور آئی ایم ایف میں کوئی فرق نہیں دونوں ملک کیلئے نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ 41ہزار لوگوں تک پہنچنے کیلئے حکومت نے 41لاکھ لوگوں کو مصیبت میں ڈال رکھا ہے، جبکہ قانون کے مطابق سیلز ٹیکس گاہک ادا کرتا ہے جہاں تک بات انکم ٹیکس کی ہی تو تمام تاجران ادا کرتے ہیں، سیلز ٹیکس گاہک کی جیب سے جاتا ہے۔اجمل بلوچ نے کہا کہ عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے کرپشن کو ختم کرنے کی بات کرتے تھے مگر اب وہ یہ نہیں دیکھ رہے کہ

ایف بی آر میں کتنے بڑے پیمانے پر کرپشن کی جارہی ہے، اگر کوئی مینو فیکچرر چوری کرتا ہے تو اس میں بھی ایف بی آر کے نمائندگان رشوت لیکر برابر کے حصہ دار ہوتے ہیں۔اجمل بلوچ نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وزیرا عظم عمران خان اگر پرائم منسٹر ہاؤس کو یونیورسٹی بنا رہے ہیں تو ایف بی آر کو مسجد بنا دیں اور اس میں نماز تاجر برادری پڑھا دیا کرے گی۔صدر انجمن تاجران نے کہا کہ حکومت کو مسئلے کا حل نکالنا چاہیے۔آخر میں  انہوں نے  حکومت سے مطالبہ کیا کہ  مولانافضل الرحمن کے آزادی مارچ کو مخصوص جگہ تک رکھنا چاہیے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…