ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

 درجنوں سفارتکاروں کا  وزارت خارجہ کے پروٹوکو ل ونگ کے ناروارویہ  پر وزیر اعظم سے ملاقات کا فیصلہ،سفارتی آداب کے منافی تذلیل کا انکشاف

datetime 23  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن)  وزارت خارجہ کے پروٹوکو ل ونگ کے ناروارویہ اور سفارت کاروں کے ذاتی سامان کی کلیرنس بروقت نہ دینے وخوربردسمیت دیگر اہم ایشوز پر درجنوں سفارتکاروں نے وزیر اعظم سے ملنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ

انہیں ویانا کنویشن کے تحت معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلاوجہ تاخیری حربے اختیار کیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔تفصیلات کے مطابق وزارت خارجہ کے پروٹول ونگ کے ناروا رویے سے تنگ غیر ملکی سفارتکاروں نے وزیر اعظم پاکستان سے ملنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سفیروں اور سفارتی عملے کی ذاتی اشیاء جن میں کھانے پینے کی اشیاء، گاڑیاں اور گھریلوں سامان کی درآمد وبرآمد کیلئے وزار ت خارجہ کے متعدد چکرلگانے پر مجبور کیا جاتاہے، جس کی وجہ سے نہ صرف وقت کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ سفارتی آداب کے منافی تذلیل بھی کی جاتی ہے۔ذرائع کے مطابق گزشتہ سہہ ماہی کے دوران صرف برطانوی ہائی کمیشن اور کینیڈین ہائی کمیشن کا کوٹہ منظور کیا گیا جبکہ ترکی، مالدیپ، عراق، اردن، فلسطین، نائیجریا، کینیا، آذربائیجان،اور متحدہ عرب امارات کے کھانے کا کوٹہ مسترد کردیا گیا۔ اس کے علاوہ پولینڈ، ہولی سی اور یورپی یونین کے سفارت کاروں کے ڈرنکس کے کوٹہ کو بھی مستردکردیا گیا۔ واضع رہے کہ ویانا کنویشن کے تحت غیر ملکی سفیروں اور سفارت کاروں کھانے پینے کی اشیاء، گاڑیاں اور دیگر گھریلوں سامان کی منتقلی کیلئے ٹیکس سے استثنی حاصل ہوتا ہے جبکہ اس کیلئے وزارت خارجہ کا پروٹوکول دفتر خصوصی حیثیت کیلئے نوٹ وربل جاری کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…