ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

راستوں کی بندش آمرانہ ذہنیت کی عکاسی ہے،مولانا کو گرفتار کیا گیا تو پھر کیا ہوگا؟اسفندیارولی خان نے خطرناک پیش گوئی کردی

datetime 21  اکتوبر‬‮  2019 |

پشاور(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا اور پنجاب کو ملانے والی شاہراہ پر کنٹینرز لگانا آمرانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے، جمہوری سوچ رکھنے والے کسی بھی احتجاج کو روکنے کیلئے تشدد یا راستوں کی بندش کا راستہ اختیار نہیں کرتی۔ احتجاج ہر شہری کا آئینی و قانونی حق ہے، اگر مولانافضل الرحمان یا دوسرے اپوزیشن رہنماؤں کو نظربند کرنے کی کوشش کی گئی تو حالات حکومت کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے۔

ولی باغ چارسدہ سے جاری اپنے بیان میں اے این پی کے مرکزی صدر کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ حکومت نے آزادی مارچ کے خوف سے اسلام آباد سمیت پورے ملک میں راستے بند کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ اٹک پُل کو بند کرنے کیلئے کنٹینرز پہنچائے جاچکے ہیں،سلیکٹڈ حکمران اپنی کرسی جاتے دیکھ کر غیرجمہوری اقدامات پر اترآئے ہیں۔جو بھی ہو، کپتان کا گھر بھیجنا اٹل فیصلہ ہے جس کیلئے تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے راولپنڈی میں جے یو آئی کارکنان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے انہیں جلد سے جلد رہا کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ حکومت کسی بھی اقدام اٹھانے سے پہلے ہزار بار سوچ لیں۔ اپوزیشن کی تمام جماعتیں ایک پیج پر ہے اور کسی بھی فیصلے سے پہلے تمام رہنماؤں کو اعتماد میں لینے کے فیصلے سے آزادی مارچ مزید مضبوط ہوگی۔ اسفندیارولی خان کا کہنا تھا کہ کپتان نے اپنی پہلی تقریر میں اپوزیشن کو احتجاج کیلئے کنٹینر دینے کا وعدہ کیا تھا، اب وقت آگیا ہے کہ کپتان اپنا کیا ہوا وعدہ پورا کریں۔اسفندیار ولی خان نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے انصار الاسلام کے ڈنڈوں سے پریشان حکومت ہر مسئلے کو بزور ڈنڈا حل کرنا چاہتی ہے،خیبر پختونخوا میں ڈاکٹرز پر لاٹھیاں برسائی گئی،تاجروں پر اسلام آباد میں ڈنڈے برسائے گئے،اگر یہی رویہ سیاسی کارکنان کے ساتھ اپنایا گیا تو پھر اس ملک کا خدا ہی حافظ،کیونکہ سیاسی کارکنان بھی پھر حکومتی وار کا جواب دینگے اور اُن حالات کی ذمہ داری پھر حکومت پر عائد ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…