منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے اہم صوبے بلوچستان کی معروف سماجی کارکن دنیا کی 100 متاثر کن خواتین میں شامل

datetime 17  اکتوبر‬‮  2019 |

لندن (این این آئی) معروف برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے دنیا کی 100 متاثر کن خواتین کی سالانہ فہرست جاری کردی۔فہرست میں کھیل، صحافت، شوبز، قانون، فن تعمیرات اور سیاست کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی تقریباً دنیا کے ہر خطے کے ممالک کی 100 خواتین کو شامل کیا گیا۔دنیا کی 100 متاثر کن خواتین میں سب سے زیادہ خواتین امریکا کی ہیں، جہاں سے تقریباً 14 خواتین کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

دنیا کی 100 متاثر کن خواتین میں سے 9 کا تعلق برطانیہ جب کہ 6 کا تعلق بھارت سے ہے۔ فہرست میں مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک کی خواتین کے نام بھی شامل ہیں، سعودی عرب کی ایک خاتون بھی اس فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہے۔افغانستان اور بنگلادیش سے بھی ایک ایک خاتون کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔دنیا کی 100 متاثر کن خواتین میں پاکستان کے پسماندہ ترین صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن جلیلہ حیدر کو بھی شامل کیا گیا ہے۔جلیلہ حیدر نہ صرف وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ہیں بلکہ وہ برطانوی نشریاتی ادارے ’انڈیپینڈنٹ اردو‘ کے لیے وی لاگ بھی کرتی ہیں۔جلیلہ حیدر کا تعلق ہزارہ کمیونٹی سے ہے اور انہیں اسی کمیونٹی کی پہلی خاتون وکیل بھی مانا جاتا ہے۔بی بی سی کی اس فہرست میں مقبوضہ کشمیر کی ایک خاتون کو بھی شامل کیا گیا ہے۔فہرست میں ایران، ملائیشیا، کویت، لبنان، لبیا اور مصر سمیت دیگر اسلامی ممالک کی خواتین بھی جگہ بنانے میں کامیاب گئی ہیں۔فہرست میں اداکارہ بیلا تھرون سمیت مختلف ممالک کی گلوکاراؤں و شوبز سے منسلک خواتین کو بھی شامل کیا ہے۔بی بی سی نے سال 2019 کی فہرست میں شامل خواتین کو 6 کیٹیگریز میں تقسیم کیا ہے اور سب سے زیادہ خواتین ’لیڈرشپ‘ اور ’شناخت‘ کی کیٹیگریز میں شامل کی گئی ہیں۔مذکورہ دونوں کیٹیگریز میں ترتیب وار 19 خواتین کو شامل کیا گیا ہے اور پاکستانی خاتون جلیلہ حیدر کو بھی ’لیڈر شپ‘ کی کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔فہرست میں تیسرے نمبر ’معلومات‘ کی کیٹیگری ہے جس میں 18 خواتین کو شامل کیا گیا ہے، ’کریئٹوٹی‘ کی کیٹیگری میں بھی 17 خواتین کو شامل کیا گیا ہے۔’ارتھ‘ کی کیٹیگری میں 14 جب کہ ’اسپورٹس‘ کی کیٹیگری میں 13 خواتین کو شامل کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…