اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

تاجر تنظیموں نے ملک گیر شٹر ڈاؤن کا اعلان کر دیا

datetime 16  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) مر کزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چوہدری نے دیگر تاجر تنظیموں سے مشاورت کے بعد 29,30اکتو بر کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا ہے اور کہا کہ اگر اس ہر تال کے بعد بھی ایف بی آر نے ہمارے مطالبات تسلیم نہ کیے تو تاجر برادری کا اگلا لائحہ عمل اس سے بھی سخت ہو گا،کاشف چوہدری نے کہا 29,30اکتو بر کو حکو مت کے خلاف ایک عظیم الشان عوامی ریفر نڈم ہو گا،کاشف چوہدری نے کہا حکو مت اور

ایف بی آر کی معاشی پالیسیوں کے باعث ملک میں صنعتیں بند ہونا اور مارکیٹوں میں خریداری40%کم اور مارکیٹیں ویران ہو رہی ہیں جس سے بیروزگاری، انارکی، افراتفری کے جنم لینے کے واضح امکانات موجود ہیں،ان حالات میں صنعت و تجارت کے تحفظ کیلئے ہم نے ملک بھر کے تاجر نمائندگان اور تاجروں سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں پر یس کانفر نس سے خطاب کر تے ہو ئے کیا۔اس موقع پر مر کزی انجمن تاجران پاکستان کے صدر اجمل بلو چ، نعیم میر، شرجیل میر،شاہد غفور پراچہ، شیخ سلیم،ملک ظہیر،راج عباسی، راجہ جاوید اقبال،اول خان خلیل،ند یم عباسی، ضیاء احمد راجہ اور دیگر تاجر رہنماء مو جو د تھے۔محمد کاشف چوہدری نے کہا شناختی کارڈ کی بے مقصد شرط پر تاجر طبقہ کو قائل کرنے میں ایف بی آر ناکام رہا30ستمبر تک شناختی کارڈ پر کوئی کارروائی نہ کرنے کے اعلان کے باوجودایف بی آر کا سافٹ ویئر سیلز ٹیکس کے گوشوارے بغیر شناختی کارڈ کے وصول نہیں کر رہا، ہم نے تمام قسم کے تاجروں کیلئے انکی سالانہ سیل یا خالص منافع پر آسان و سادہ ٹیکس اسکیم لانے کی پوری تجویز پیش کی۔ مگر ایف بی آرا مپورٹ اور مینو فیکچرنگ کے وقت 17%سیلز ٹیکس وصول کر چکنے کے باوجود ہول سیلر اور پرچون فروش تک ہر سطح کے تاجر کو سیلز ٹیکس رجسٹرڈ کرنا چاہتا ہے۔جبکہ ملک کے تاجر حساب کتاب، کھاتے رکھنے کے متحمل نہیں ہو سکتے اور اس سے حکومتی آمدن میں کوئی اضافہ نہیں

جبکہ کرپشن اور بلیک میلنگ میں اضافہ ہو گا۔اجمل بلو چ نے کہا جب تک شناختی کارڈ کی شر ط کے خا تمے کا واضح اعلان نہیں ہو جا تا تاجروں کا احتجاج جا ری رہے گا،حکو متی اقد مات کے باعث ملک میں کاروباری سر گر میاں ماند پڑ چکی ہیں،موبائل فونز، الیکٹرونکس، جیولرز، فرنیچر ڈیلرز، ماربل، ٹیکسٹائل، سبزی اور فرو ٹ منڈی کے آڑھتیوں، ہو ل سیلر، فوڈ گر ین سے لیکر ہر طبقہ پریشان ہے۔انھوں نے کہا ایف بی آر تاجروں سے مذاکرات کو سنجیدہ طر یقے سے نہیں لے رہی ہے، ہم مذاکرات سے انکار نہیں کر تے مگر مذاکرات کے زریعے وقت کو ضائع نہ کیا جا ئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…