اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

کسانوں کا رمضان شوگر مل سے 55 کروڑ بقایا جات کی ادائیگی کیلئے ڈی سی آفس پر دھاوا ۔ سرکاری افسران بھاگ نکلے، شریف خاندان مافیا آسانی کیساتھ یہ ادائیگی نہیں کریگا،عمران خان سے بڑا مطالبہ کردیا گیا

datetime 15  اکتوبر‬‮  2019 |

چنیوٹ ( آن لائن ) شریف خاندان کی ملکیتی رمضان شوگر مل سے 55 کروڑ بقایا جات کی وصول کیلئے شہر میں کسانوں کا شدید احتجاج جبکہ سرکاری املاک اور ضلعی انتظامیہ کے دفاتر پر دھاوا بھی بول دیا ہے جس کے بعد شہر میں شدید پریشانی کا عالم چھا چکا ہے ۔

شریف خاندان بالخصوص شہباز شریف ، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز نے کسانوں سے ایک سال پہلے گنا خریدا تھا جس کی ادائیگی ابھی تک نہیں کی گئی جس سے کسانوں بھی اب بپھر گئے ہیں کسانوں نے گنا کی عدم ادائیگیوں پر اسلام آباد اور چنیوٹ میں بیک وقت ہنگامے شروع کررکھے ہیں تاہم پنجاب کے وزیراعلیٰ کسانوں کو گنا کی ادائیگی کرانے میں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہا جبکہ پنجاب کے کین کمشنر واجد بخاری پہلے ہی کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں اور شریف خاندان کا وفادار ہے ڈپٹی کمشنر نے مل کے مشیروں کیخلاف مقدمات قائم کرکے فوری گرفتار کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے لیکن ڈپٹی کمشنر بھی انتہائی کمزور اور نااہل افسر ہے جو ایک سال تک کسی مل منیجر کو نہ گرفتار کررہا ہے اور نہ ریونیو ایکٹ کے تحت مل کو قبضہ میں لے کر فروخت کی گئی ہے حالانکہ پنجاب میں ریونیو ایکٹ نافذ ہے جس کے تحت تمام اختیارات ڈی سی کے پاس ہیں شہباز شریف کا نوسر باز بیٹا غریب کسانوں کے 55 کروڑ ورپے لوٹ کر لندن میں عیاشیاں کررہا ہے جبکہ پاکستان میں شہباز شریف غریب عوام کو انصاف دلانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں جبکہ غریب کسانوں سے لوٹا ہوا 55کروڑ ادا کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کسانوں نے اب وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ رمضان شوگر مل سے 55 کروڑ روپے بقایا جات کے ادا کرائیں ۔کیونکہ شریف خاندان مافیا آسانی کے ساتھ یہ ادائیگی نہیں کرے گا کسانوں کے بقایا جات ادا کرانا عمران خان کی قومی ذمہ داری ہے لیکن وہ یہ بھی ابھی تک پوری طرح ادا نہیں کرسکے کیونکہ وزیراعلیٰ پنجاب پہلے ہی نااہل اور کمزور ثابت ہوچکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…