بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل کیس، ایف آئی اے نے کیس میں دہشت گردی کی شق شامل کر کے نیا تنازعہ کھڑا کر دیا

datetime 14  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے انسداد دہشت گردی ونگ نے حیرت انگیز طور پر دہشت گردی کی شق شامل کر کے اپنے لئے ایک نیا مسئلہ کھڑا کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ کیس میں دہشت گردی کی شق شامل کرنے سے پہلے ویڈیو سکینڈل کے مرکزی ملزم ناصر بٹ نے ڈی جی ایف آئی اے کو لکھے گئے خط میں اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم ذاتی عناد اور دشمنی کی وجہ سے میرے خلاف دہشت گردی کی دفعات لگا سکتی ہے

جبکہ ناصر جٹ کا یہ خدشہ درست ثابت ہوا اور ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم نے کیس میں دہشت گردی کی شق شامل کر کے نہ صرف وکلاء بلکہ قانونی ماہرین کو بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ویڈیو سکینڈل کے ابتداء ہی سے کیس میں اب تک بے شمار اتار چڑھاؤ آئے ہیں جبکہ اس کیس نے نیا موڑ اس وقت لیا جب ایف آئی اے نے مضحکہ خیز طور پر کیس میں دہشت گردی کی دفعات شامل کر دیں لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ عدالت کے سامنے ان دفعات کو ثابت اور ان دفعات کا دفاع کیسے کرتے ہیں اس سے پہلے کیس اس وقت دلچسپ مرحلے میں داخل ہوعا جب ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم نے ناصر جنجوعہ، مہر غلام جیلانی اور خرم شہزاد یوسف کے پانچ دن کے ریمانڈ کے بعد اخراج رپورٹ بنا کر عدالت ہی سے رہا کروا دیا جبکہ تحقیقاتی ٹیم نے اخراج رپورٹ میں عدالت کو لکھ کر جمع کروایا کہ تحقیقات کے دوران ہم نے ناصر جنجوعہ، مہر غلام جیلانی اور خرم شہزاد یوسف کو معصوم پایا جبکہ ان کیخلاف ہمارے پاس کوئی ایسا ثبوت نہیں ہے کہ ان کو مزید حراست میں رکھا جائے جس کے بعد عدالت نے ان تینوں کو رہا کر دیا ان تینوں کی رہائی پر کیس انتہائی اہم رخ اختیار کر گیا جبکہ اخراج رپورٹ بنانے والی تحقیقاتی ٹیم کیخلاف انکوائری کی گئی جبکہ ڈائریکٹر سائبر کرائم افضل محمود بٹ کواس اخراج رپورٹ کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے واپس اسٹیبلشمنٹ بھیج دیا گیا جبکہ افضل بٹ نے اس بات کا برملا اظہار کیا کہ جب ناصر جنجوعہ، مہر جیلانی اور

خرم یوسف کیخلاف ہمارے پاس کوئی ثبوت ہی نہیں ہے تو ہم ان کو کیسے مزید حراست میں رکھ سکتے تھے لیکن اس اخراج رپورٹ کا خمیازہ ان کو بھگتنا پڑا اس کے بعد ڈی جی ایف آئی اے کو بھی اس اخراج رپورٹ کا خمیازہ بھگتنا پڑا ان کی بے انتہاء سرزنش کی گئی جس کے بعد ان کو پندرہ دنوں کی جبری رخصت پر بھیجا گیا اور پندرہ دن گزرنے کے بعد ان کو ایک مرتبہ پھر سات دن کی رخصت پر بھیج دیا گیا لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم دہشت گردی کی لگائی جانے والی شق کو کیسے عدالت میں ثابت کرتی ہے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…