جمعہ‬‮ ، 01 مئی‬‮‬‮ 2026 

جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل کیس، ایف آئی اے نے کیس میں دہشت گردی کی شق شامل کر کے نیا تنازعہ کھڑا کر دیا

datetime 14  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے انسداد دہشت گردی ونگ نے حیرت انگیز طور پر دہشت گردی کی شق شامل کر کے اپنے لئے ایک نیا مسئلہ کھڑا کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ کیس میں دہشت گردی کی شق شامل کرنے سے پہلے ویڈیو سکینڈل کے مرکزی ملزم ناصر بٹ نے ڈی جی ایف آئی اے کو لکھے گئے خط میں اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم ذاتی عناد اور دشمنی کی وجہ سے میرے خلاف دہشت گردی کی دفعات لگا سکتی ہے

جبکہ ناصر جٹ کا یہ خدشہ درست ثابت ہوا اور ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم نے کیس میں دہشت گردی کی شق شامل کر کے نہ صرف وکلاء بلکہ قانونی ماہرین کو بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ویڈیو سکینڈل کے ابتداء ہی سے کیس میں اب تک بے شمار اتار چڑھاؤ آئے ہیں جبکہ اس کیس نے نیا موڑ اس وقت لیا جب ایف آئی اے نے مضحکہ خیز طور پر کیس میں دہشت گردی کی دفعات شامل کر دیں لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ عدالت کے سامنے ان دفعات کو ثابت اور ان دفعات کا دفاع کیسے کرتے ہیں اس سے پہلے کیس اس وقت دلچسپ مرحلے میں داخل ہوعا جب ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم نے ناصر جنجوعہ، مہر غلام جیلانی اور خرم شہزاد یوسف کے پانچ دن کے ریمانڈ کے بعد اخراج رپورٹ بنا کر عدالت ہی سے رہا کروا دیا جبکہ تحقیقاتی ٹیم نے اخراج رپورٹ میں عدالت کو لکھ کر جمع کروایا کہ تحقیقات کے دوران ہم نے ناصر جنجوعہ، مہر غلام جیلانی اور خرم شہزاد یوسف کو معصوم پایا جبکہ ان کیخلاف ہمارے پاس کوئی ایسا ثبوت نہیں ہے کہ ان کو مزید حراست میں رکھا جائے جس کے بعد عدالت نے ان تینوں کو رہا کر دیا ان تینوں کی رہائی پر کیس انتہائی اہم رخ اختیار کر گیا جبکہ اخراج رپورٹ بنانے والی تحقیقاتی ٹیم کیخلاف انکوائری کی گئی جبکہ ڈائریکٹر سائبر کرائم افضل محمود بٹ کواس اخراج رپورٹ کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے واپس اسٹیبلشمنٹ بھیج دیا گیا جبکہ افضل بٹ نے اس بات کا برملا اظہار کیا کہ جب ناصر جنجوعہ، مہر جیلانی اور

خرم یوسف کیخلاف ہمارے پاس کوئی ثبوت ہی نہیں ہے تو ہم ان کو کیسے مزید حراست میں رکھ سکتے تھے لیکن اس اخراج رپورٹ کا خمیازہ ان کو بھگتنا پڑا اس کے بعد ڈی جی ایف آئی اے کو بھی اس اخراج رپورٹ کا خمیازہ بھگتنا پڑا ان کی بے انتہاء سرزنش کی گئی جس کے بعد ان کو پندرہ دنوں کی جبری رخصت پر بھیجا گیا اور پندرہ دن گزرنے کے بعد ان کو ایک مرتبہ پھر سات دن کی رخصت پر بھیج دیا گیا لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم دہشت گردی کی لگائی جانے والی شق کو کیسے عدالت میں ثابت کرتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص


میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…