دو مختلف طریقوں سے اسلام آباد مارچ کا حصہ بنیں گے،لائحہ عمل ترتیب دے چکے،اے این پی نے حکمت عملی کا اعلان کردیا

  پیر‬‮ 14 اکتوبر‬‮ 2019  |  19:38

پشاور(آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ اے این پی آزادی مارچ کی حمایت کا اعلان کرچکی ہے،پہلے مرحلے میں اے این پی مارچ کا حصہ نہیں ہوگی،دوسرے مرحلے میں دو مختلف طریقوں سے اے این پی مارچ کا حصہ بنے گی،باچا خان مرکز پشاور میں بونیر سے جمیعت علمائے اسلام کے سابق امیدوار سردار خان کی شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی دو مرحلوں میں اسلام آباد مارچ کا حصہ بنے گی، اے این پی کیلئے آزادی مارچ میں پہلا مرحلہ یہ ہوگا کہ


اگر صوبائی حکومت نے سیاسی کارکنان کو روکا تو اے این پی اْس کی جواب طلبی صوبائی حکومت سے کریگی،سیاسی کارکنان کی گرفتاری کی صورت میں اے این پی اسفندیار ولی خان کی قیادت میں پورے صوبے کو بند کریگی،اگر اے این پی قائدین کو گرفتار کیا گیا تو پھر اے این پی کے پلان بی پر عمل درآمد ہوگا،پھر پارٹی کا کمان سیکنڈ لیڈرشپ کے ہاتھوں میں ہوگی،اسکے بعد صورتحال صوبائی حکومت کے کنٹرول میں بھی نہیں رہے گی،ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی کیلئے مارچ میں شمولیت کا دوسرا مرحلہ یہ ہوگا کہ اگر مولانا صاحب آزادی مارچ کیلئے اسلام آباد پہنچ جاتے ہیں تو پھر اے این پی کارکنان اسفندیار ولی خان کی قیادت میں مارچ کا حصہ بننے کیلئے اسلام آباد جائیں گے اور یہ فیصلہ اسلام آباد ہی میں سیاسی قائدین اور رہبر کمیٹی کریگی کہ اے این پی کارکنان کتنے وقت کیلئے مارچ کا حصہ ہونگے،انہوں نے کہا کہ حکومت کے خاتمے،شفاف انتخابات کے انعقاد،فوج کی انتخابی عمل میں حصہ نہ لینے اور آئین کے تحفظ پر پوری قوم متفق ہے،تمام اداروں کو اپنے آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا،تب ہی پاکستان ترقی کرسکتا ہے،پاکستان کو اگر اسی طرح غلام رکھا جائیگا کہ ایک مخصوص ادارہ پورے ملک کو اپنے کنٹرول میں رکھے تو یہ پاکستان کے مستقبل کیلئے نیک شگون نہیں ہے۔ایمل ولی خان نے کہا کہ پورے کے پورے سیاسی پارٹیوں میں واحد عوامی نیشنل پارٹی میں مارچ کے حوالے سے کوئی اختلاف نہیں پایا گیا، یہ اے این پی ہی کے مضبوط تنظیم کا کمال ہے کہ اے این پی کے مرکزی  صدر نے مارچ کے حوالے سے جو حکم دیا اْس پر تمام کارکنان اور قائدین نے لبیک کہا،یہی اے این پی کے مضبوط تنظیم کا ثبوت ہے۔ہماری جماعت میں تنظیم اور ڈسپلن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا،اے این پی ورکرز کی پارٹی تھی،ہے اور رہے گی،یہاں پر خودساختہ قائدین کے فیصلے نہیں چلیں گے۔ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ صوبائی اور مرکزی حکومتیں ہر محاذ پر ناکام ہوچکی ہے، پاکستان کو پھر سے دہشت گردوں کیلئے جنت بنانے سے گریز کیا جائے، آج ملاکنڈ ڈویڑن بالخصوص بونیر اور سوات میں دہشت گرد وں کی جانب سے ایک بار پھر شہریوں کو بھتہ وصولی کے کالز آرہے ہیں،ریاست دہشتگردی کو پھر سے سنجیدہ نہیں لے رہی،ہمیں دہشتگردوں کے رحم وکرم پر چھوڑا جارہا ہے۔خیبرپختونخوا میں حکومتی دہشت گردی ہورہی ہے،حکومت بزور طاقت شہریوں پر اپنے فیصلے مسلط کررہی ہے،صوبے کی حالت یہ ہے کہ ڈاکٹرز جیلوں اور پولیس ہسپتالوں کے اندر ہیں،ہمارے صوبے بالخصوص وزیرستان سے لیکر باجوڑ اور جنوبی اضلاع میں جتنے بھی قدرتی وسائل ہیں وہ لوگوں کے قبضے میں ہیں،لوگ بھی وہ ہیں جو پختون نہیں ہیں،اٹھارویں آئینی ترمیم میں ہمارے وسائل ہمارے ہیں،ہمارے قدرتی وسائل کو غیروں سے آزاد کرایا جائے۔

موضوعات:

loading...