پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

بیوروکریسی کی رکاوٹیں کام دکھانے لگیں، حکومت کس چیز کے حصول سے محروم رہ گئی، انتہائی چونکا دینے والا انکشاف

datetime 9  اکتوبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) منصوبوں کی تکمیل میں طویل تاخیر اور نظام کی خامیاں اور کمزوریاں 21.6 ارب ڈالر کے غیرملکی قرضوں اور گرانٹ کے حصول کی راہ میں رکاوٹ بن گئیں۔وزارت اقتصادی امور کے اعدادوشمار کے مطابق21.6 ارب ڈالر کی خطیر رقم میں 17.7 ارب ڈالر کے (1.25 فیصد تا 3 فیصد شرح سود پر)نسبتاً سستے قرضے اور 3.9 ارب ڈالر کی غیرملکی گرانٹ شامل تھی

جس کی فراہمی کا وعدہ انٹرنیشنل ڈونرز نے کیا تھا مگر مختلف وجوہ کی بنا پر یہ گرانٹ نہ مل سکی۔وزارت اقتصادی امور اور قرض دینے والے اداروں میں موجود ذرائع کے مطابق پاکستان بیوروکریسی کی رکاوٹوں،کنٹریکٹ دینے کے تیزرفتار طریقہ کار اور 21.6 ارب ڈالر کے اپروول پروسیس کو سادہ بنا کر اس رقم کا کم از کم ایک چوتھائی حاصل کرنے کے لیے متحرک ہوسکتا ہے۔ وزارت اقتصادی امور کے ڈیٹا کے مطابق جون 2019 تک غیر ممالک سے نہ ملنے والے قرضوں اور گرانٹس کا حجم 21.6 ارب ڈالر تھا۔گزشتہ سال یہ حجم 23.6 ارب ڈالر تھا۔ یوں رواں سال اس رقم میں 2 ارب ڈالر (8.6 فیصد)کی کمی آئی۔ پاکستان سستے قرضے اور گرانٹس ایسے وقت میں حاصل کرنے سے محروم ہے جب حکومت اور اسٹیٹ بینک زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے مہنگے قرضے لینے کی راہ پر چل پڑے ہیں۔ واضح رہے کہ 21.6 ارب ڈالر کے قرض و گرانٹس کے لیے غیرملکی ڈونرز اور قرض دہندگان کے ساتھ معاہدوں پر دستخط پہلے ہی ہوچکے ہیں۔ وزارت اقتصادی امور کے اعدادوشمار کے مطابق21.6 ارب ڈالر کی خطیر رقم میں 17.7 ارب ڈالر کے (1.25 فیصد تا 3 فیصد شرح سود پر)نسبتاً سستے قرضے اور 3.9 ارب ڈالر کی غیرملکی گرانٹ شامل تھی جس کی فراہمی کا وعدہ انٹرنیشنل ڈونرز نے کیا تھا مگر مختلف وجوہ کی بنا پر یہ گرانٹ نہ مل سکی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…