اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

زہر پھیلانے والے ٹیکوں کی پاکستان میں بھرمار، جانوروں مرغیوں میں زہر ڈال کر پاکستانیوں میں پھیلانے کا سکینڈل سامنے آگیا،عوام زہر کھانے پر مجبور ہوگئے

datetime 6  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) لائیو سٹاک اور پولٹری مافیا نے جانوروں اور مرغیوں کی پیداوار میں غیر طبعی اضافہ کیلئے سومو ٹریفک (Somo Trephic)ٹیکے درآمد کرکے 22کروڑ پاکستانیوں میں ز ہر پھیلا دیا ہے، انجیکشن کے ذریعے پیدا ہونے والا دودھ اور جانوروں کا گوشت پاکستان میں کینسر، ایڈز کے علاوہ دیگر موذی امراض کے پھیلاؤ کا سبب ہے، ذرائع نے بتایا ہے کہ ز ہر پھیلانے والے ٹیکوں کی درآمد میں ایف آئی اے کے اعلیٰ حکام اور وزارت خوراک کے اعلیٰ حکام بھی ملوث ہیں،

اسلام آباد کے ایک ڈاکٹروں کے گروہ نے وزیراعظم عمران خان کو اس خطرہ سے آگاہ کرنے کیلئے خط لکھا تھا لیکن وہاں جہانگیر ترین کی سربراہی میں موجود لائیوسٹاک مافیا نے کاروائی کرنے سے عمران خان کو روک رکھا ہے، پاکستان میں ہر سال8ارب روپے کے انجیکشن سالانہ درآمد ہوتے ہیں جن سے جانوروں سے قدرتی صلاحیت سے زیادہ دودھ اور گوشت لیا جاتا ہے یہ ٹیکے امریکہ، جنوبی افریقہ اور کوریا سے درآمد کئے جارہے ہیں، جبکہ کراچی کی بندرگاہ پر مامور سرکاری عملہ اس درآمد سے اربوں روپے رشوت لے کر سامان چھوڑ دیتا ہے، ذرائع نے بتایا ہے کہ ٹیکے Bostonاور Lactopinہر سال اربوں مالیت کے پاکستان میں غیر قانونی طریقہ سے درآمد کئے جارہے ہیں کیونکہ سرکاری ادارہ ڈریپ میں موجودہ کالی بھیڑیں اس گروہ کے ساتھ مل چکی ہیں جو لوگوں میں ز ہر پھیلانے کا موجب بن رہے ہیں، ذرائع نے بتایا ہے کہ مختلف ممالک سے یہ ز ہر آلود ٹیکے دبئی آتے ہیں پھر دبئی سے مافیا ایف آئی اے اور ڈریپ کے ساتھ مکا کرکے پاکستان درآمد کرتا ہے اور پھر جانوروں اور مرغیوں کو دیا جاتا ہے، ذرائع نے بتایا ہے کہ مرغیوں میں گروتھ پروموٹر اینٹی بائیوٹک کی مقدار خوراک میں شامل کرکے مرغی کا گوشت بڑھایا جارہا ہے، تاہم یہ گوشت کھانے سے پاکستانیوں میں اینٹی بائیوٹیک کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے اینٹی بائیوٹک ادویات اثر نہیں کرتیں

جبکہ یہ مرغی کا گوشت پاکستان میں ٹائیفائیڈ بیماری میں اضافہ کا سبب بنا ہوا ہے، ذرائع نے بتایا ہے کہ صوبائی اور وفاقی وزارت خوراک کے کمشنر اینمل سبنڈری بھی اس کرپشن مافیا کا مرکزی ساتھی بن چکے ہیں، مرغی مافیا اور لائیو سٹاک مافیا حکومت مکمل کنٹرول حاصل کر چکا ہے، پاکستان میں ز ہر آلود ٹیکے درآمد کرنے کا سب سے بڑے درآمد کنندگا ن میں غازی برادر سرفہرست ہے لیکوڈین انجییشن بیرونی کمپنی بناتی ہے اور یہ

جنوبی افریقہ سے سمگلنگ کے ذریعے پاکستان آرہے ہیں، بوسٹن نامی ٹیکے بھی جنوبی افریقہ سے سمگلنگ کے ذریعے آتے ہیں اور کراچی پورٹ سے پاکستان میں پھیلائے جارہے ہیں، یہ دونوں انجیکشن پاکستان میں بڑھتے ہوئے کینسر کے امراض کا بڑا سبب ہیں، سپریم کورٹ ان انجیکشنز پر پہلے ہی پابندی عائد کرچکی ہے تاہم ایف آئی اے کے کرپٹ حکام، ڈریپ اور کمشنر اینمل سبنڈری اب سمگلنگ کرانے کے بعد پاکستان میں زہر پھیلانے والوں میں شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…