منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

پاکستان کی کوششیں کامیاب،امریکہ نے معاہدے کے تحت تین سینئر افغان طالبان رہنماؤں کو رہا کر دیا،رہائی پر شاندار استقبال

datetime 6  اکتوبر‬‮  2019 |

کابل/اسلام آباد (این این آئی)افغانستان میں امریکی حکام نے اتوار کو قیدیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے کے تحت تین سینئر افغان طالبان رہنماؤں کو رہا کر دیا ہے۔طالبان ذرائع نے رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ بگرام جیل سے رہائی پانے والوں میں طالبان حکومت کے دوران کنڑ صوبے کے گورنر شیخ عبد الرحیم اور نمروز کے گور نر مولوی عبد الرحیم شامل ہیں۔طالبان ذرائع کے مطابق یہ تبادلہ تین بھارتی انجینئر وں کی رہائی کے بدلے میں ہوا ہے۔

یاد رہے کہ بگرام کا کچھ حصہ ابھی امریکی فوجیوں کے کنٹرول میں ہیں۔اسلام آباد میں گزشتہ چند روز میں طالبان،امریکہ اورپاکستانی حکام کے درمیان مذاکرات میں افغان طالبان کے قیدیوں اور 2016ء میں کابل سے اغواء ہونے والے ایک امریکی اور ایک آسٹریلوی پروفیسروں کے تبادلے پر بھی گفتگو ہوئی تھی اور امکان ہے کہ پروفیسر کی رہائی بھی جلد متوقع ہے۔اس سے پہلے پاکستان کے توسط سے قطر نے دو پروفیسر وں اور طالبان قیدیوں کے درمیان ایک معاہدے کیلئے مذاکرات ہوئے تھے۔یاد رہے کہ جولائی میں وزیر اعظم عمران خان نے دورہ امریکہ کے دور ان دو غیر ملکی پروفیسروں سے متعلق خوشخبری کااعلان کیا تھا تاہم امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ رکنے کی وجہ سے پروفیسر وں کی رہائی بھی تاخیرکا شکار ہوگئی تھی۔”این این آئی“ کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ دو پروفیسروں کی رہائی کے بدلے میں امریکہ اور افغان حکومت گیارہ طالبان رہنماؤں کو رہا کرینگے۔ایک پاکستانی اہلکار نے ”این این آئی“کو بتایاکہ طالبان قیدیوں کی رہائی امن مذاکرات کی بحالی سے پہلے اعتماد سازی کابڑا اقدام ہوگا۔طالبان ذرائع نے بتایاکہ اتوار کو بگرام جیل سے تین طالبان رہنماؤں کی رہائی کے بعد انہیں بغلان میں طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں طالبان رہنماؤں کے حوالے کیا۔ طالبان نے رہائی پانے والوں کا گرمجوشی سے استقبال کیا اورانہیں پھولوں کے ہار پہنائے۔دریں اثناء طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان سیاسی نمائندوں نے پاکستانی حکام اورزلمے خلیل زاد سے مذاکرات کے بعد قطر واپس چلے گئے ہیں۔

ذرائع نے کہاکہ زلمے خلیل زاد کے ساتھ پاکستان کی سہولت کاری سے مفید مذاکرات ہوئے ہیں اور اب طالبان امریکی نمائندے کی تجاویز کا جواب دینے کیلئے آپس میں مشورے کررہے ہیں۔ذرائع نے مزید بتایاکہ اسلام آباد کے اجلاسوں کے بعد امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے قو ی امکانات پیدا ہوگئے ہیں اور قیدیوں کی رہائی بھی اس پیشرفت کی ایک کڑی ہے۔دریں اثناء افغانستان کیلئے روسی صدر کے نمائندہ خصوصی ضمیر کابلوف نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان نے تیرہ ستمبر کو امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کر نا تھا۔انہوں نے ماسکو میں ایک بھارتی ٹی وی کو بتایا کہ طالبان نے حالیہ دورہ روس کے دور ان انہیں جنگ بندی کے اعلان سے متعلق آگاہ کیا تھا تاہم بد قسمتی سے امریکہ نے یکطرفہ او ر غیر متوقع طورپر امن مذاکرات روک دیئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…