احتساب عدالت نے نیوسٹی ہاؤسنگ پراجیکٹ میں مبینہ 30 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کے ریفرنس کا فیصلہ 22سال سنا دیا

  منگل‬‮ 1 اکتوبر‬‮ 2019  |  20:03

اسلام آباد (این این آئی) احتساب عدالت نے نیوسٹی ہاؤسنگ پراجیکٹ میں مبینہ 30 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کے ریفرنس کا فیصلہ 22سال سنا دیا۔لاہور میں دائر ہونے والا ریفرنس احتساب عدالت راولپنڈی منتقل ہوتے ہوئےسات سال قبل احتساب عدالت اسلام آباد منتقل کیا گیا،1996 میں دائر ریفرنس کا فیصلہ 22 سال بعد عدالت نے تمام ملزمان کو بری کر دیا۔منگل کو ریفرنس کا فیصلہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سنایا،ریفرنس کے شریک ملزمان میں سابق وفاقی وزیرداخلہ آفتاب شیرپاؤ اور سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی محمد نواز کھوکھر بھی شامل ہیں،عدالت نے آفتاب شیر پاؤ اور


حاجی نواز کھوکھر کو پہلے ہی بری کردیا تھا،ریفرنس کے دو شریک ملزمان سابق ڈائریکٹر جنرل این ایچ ایاقبال خان اور نیاز علی وفات پاچکے ہیں،ریفرنس میں باقی 7 ملزمان میں سابق ایم این اے بدین نظامانی، زاہدشفیق، عثمان علی شاہ، طاہرخان،قاضی ظہیر، عبادت شاہ اورمنصورخان شامل تھے،عدالت نے ملزمان پرجرم ثابت نہ ہونے پر باعزت بری کرنے حکم سنایا،ملزمان پر 1996 میں سی ڈی اے اور این ایچ اے کے اشتراک سے شروع کیے جانے والے نیو سٹی پراجیکٹ میں 30 کروڑ روپے کی خورد برد کا الزام تھا۔  احتساب عدالت نے نیوسٹی ہاؤسنگ پراجیکٹ میں مبینہ 30 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کے ریفرنس کا فیصلہ 22سال سنا دیا۔لاہور میں دائر ہونے والا ریفرنس احتساب عدالت راولپنڈی منتقل ہوتے ہوئے سات سال قبل احتساب عدالت اسلام آباد منتقل کیا گیا،1996 میں دائر ریفرنس کا فیصلہ 22 سال بعد عدالت نے تمام ملزمان کو بری کر دیا۔منگل کو ریفرنس کا فیصلہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سنایا


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎