اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

” ملزم کو صرف سزا دینے کیلئے اسے بنیادی حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا“ تحریک انصاف کے معروف رہنما رہنما جیل سے رہا

datetime 28  ستمبر‬‮  2019 |

لاہور(سی پی پی) ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سبطین خان کے ضمانت کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سردار احمد نعیم نے 20 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ جس کے پاس کوئی راستہ نہ ہو اسکے پاس آرٹیکل 199 کے ذریعے دادرسی کا راستہ بچتا ہے۔ 50،50لاکھ کے مچلکے جمع کرانے کے بعد سبطین خان کے روبکار جاری کیے گئے اورا نہیں رہاکردیاگیا۔ اس موقع پر کارکنوں نے بھرپوراستقبال کیا۔رہائی کے بعد سبطین خان کا کہنا تھا کہ مجھے جس کیس میں جیل بھیجا گیا وہ میرے دور کاتھاہی نہیں،ڈیڈ ہارس کی مانند کیس تھا مگر اللہ پر توکل کیا اور انصاف ملا۔فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا کہ ہائی کورٹ اپنے اختیارات انصاف کی فراہمی کیلئے استعمال کرتا ہے، کسی قانون کی منشا کو متاثر کرنے کے لئے نہیں۔ ہائی کورٹ اختیار کا استعمال انصاف کی فراہمی اور نیب آرڈیننس کے ناجائز استعمال کو روکنے کیلئے کرتی ہے۔فیصلے میں مزید لکھا گیا ہے کہ ملزم کو صرف سزا دینے کے لیے اسے بنیادی حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ عدالت کے پاس ملک تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا اختیار ہے۔ نیب کے ایسے ملزمان جن کے کیس میں مزید انکوائری کی ضرورت ہو انہیں بنیادی حقوق کی فراہمی سے نہیں روکا جا سکتا۔ جب نیب کسی ملزم کو بنیادی حقوق کی فراہمی سے انکار کرے تو اسے ہائی کورٹ کی صورت میں روشنی کی کرن نظر آتی ہے۔

شہریوں کو بنیادی حقوق نہ دینے سے عدالتوں پر اعتماد کم ہوتا ہے۔ ہم نے آئین کے تحت لوگوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے۔ آئین کے تحت تمام شہریوں کی آزادی کا خیال رکھا جائے اور ان کے ساتھ عزت کے ساتھ پیش آیا جائے۔یاد رہے 14 جون کو نیب لاہور نے صوبائی وزیرجنگلات سبطین خان کوگرفتارکیاتھا، ان پرغیرقانونی ٹھیکوں کاالزام ہے، بعد ازاں وزیر جنگلات پنجاب سبطین خان نے گرفتاری کے بعد استعفیٰ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کوبھجوادیا تھا۔سبطین خان وزیراعظم کے آبائی حلقے میانوالی پی پی 88 میانوالی چار سے پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے اور پھر وزیر جنگلات و جنگلی حیات بنے، سبطین خان دو ہزار سات میں بھی صوبائی وزیر معدنیات رہ چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…