اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے توہین رسالت کیس میں سزائے موت کے ملزم وجیہہ الحسن کو بری کردیا،ثبوت ہونے کے باوجود کیوں بری کیاگیا؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 25  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ نے توہین رسالت کیس میں سزائے موت کے ملزم وجیہہ الحسن کو بری کردیا۔سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف توہین رسالت کا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ ٹرائل کورٹ نے وجیہہ الحسن کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی تھی اور ہائی کورٹ نے اس سزا کو برقرار رکھا تھا تاہم مجرم نے سزائے موت کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی

جسے منظور کرلیا گیا۔جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس قاضی محمد امین پر مشتمل تین رکنی بینچ نے توہین رسالت کیس میں سزائے موت کے خلاف اپیل کی سماعت کی۔سرکاری وکیل امجد رفیق نے بتایا کہ مدعی اسماعیل قریشی نے وفاقی شریعت کورٹ میں درخواست دی کہ توہین رسالت کی سزا موت ہونی چاہیے، اسماعیل قریشی کی درخواست پرفیڈرل شریعت کورٹ نے توہین رسالت کی سزا، سزائے موت کردی۔ اس پر ملزم وجیہہ الحسن نے حسن مرشد مسی کے نام سے اسماعیل قریشی کو خط بھیجے جن میں توہین رسالت کے الفاظ استعمال کئے گئے۔سرکاری وکیل نے بتایا کہ اسماعیل قریشی نے اقبال ٹاؤن تھانے میں ایف آئی آر درج کروائی، ملزم نے اپنی کمپنی کے منیجر محمد وسیم اور محمد نوید کے سامنے خط لکھنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ میری اس معاملے سے جان چھڑائیں، ملزم نے دونوں گواہان کے سامنے اعتراف کیا کہ پہلے اس نے عیسائی مذہب اپنایا پھر قادیانی ہو گیا۔مدعی کے وکیل نے کہا کہ مجسٹریٹ کے سامنے ملزم کی ہینڈ رائٹنگ لی گئی، ہاتھ کی لکھائی کے ماہر نے رپورٹ دی کہ ملزم کی لکھائی خط سے میچ کرتی ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ ملزم تو کہتا ہے کہ میں نے خط نہیں لکھے، میں مسلمان ہوں اورآخری نبی ؐ کو بھی مانتا ہوں، ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ نے کہا ہے کہ غالب امکان ہے ملزم کی رائٹنگ خط سے مشابہت رکھتی ہے۔سپریم کورٹ نے توہین رسالت کیس میں سزائے موت کے ملزم وجیہہ الحسن کو بری کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…