منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے توہین رسالت کیس میں سزائے موت کے ملزم وجیہہ الحسن کو بری کردیا،ثبوت ہونے کے باوجود کیوں بری کیاگیا؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 25  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ نے توہین رسالت کیس میں سزائے موت کے ملزم وجیہہ الحسن کو بری کردیا۔سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف توہین رسالت کا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ ٹرائل کورٹ نے وجیہہ الحسن کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی تھی اور ہائی کورٹ نے اس سزا کو برقرار رکھا تھا تاہم مجرم نے سزائے موت کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی

جسے منظور کرلیا گیا۔جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس قاضی محمد امین پر مشتمل تین رکنی بینچ نے توہین رسالت کیس میں سزائے موت کے خلاف اپیل کی سماعت کی۔سرکاری وکیل امجد رفیق نے بتایا کہ مدعی اسماعیل قریشی نے وفاقی شریعت کورٹ میں درخواست دی کہ توہین رسالت کی سزا موت ہونی چاہیے، اسماعیل قریشی کی درخواست پرفیڈرل شریعت کورٹ نے توہین رسالت کی سزا، سزائے موت کردی۔ اس پر ملزم وجیہہ الحسن نے حسن مرشد مسی کے نام سے اسماعیل قریشی کو خط بھیجے جن میں توہین رسالت کے الفاظ استعمال کئے گئے۔سرکاری وکیل نے بتایا کہ اسماعیل قریشی نے اقبال ٹاؤن تھانے میں ایف آئی آر درج کروائی، ملزم نے اپنی کمپنی کے منیجر محمد وسیم اور محمد نوید کے سامنے خط لکھنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ میری اس معاملے سے جان چھڑائیں، ملزم نے دونوں گواہان کے سامنے اعتراف کیا کہ پہلے اس نے عیسائی مذہب اپنایا پھر قادیانی ہو گیا۔مدعی کے وکیل نے کہا کہ مجسٹریٹ کے سامنے ملزم کی ہینڈ رائٹنگ لی گئی، ہاتھ کی لکھائی کے ماہر نے رپورٹ دی کہ ملزم کی لکھائی خط سے میچ کرتی ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ ملزم تو کہتا ہے کہ میں نے خط نہیں لکھے، میں مسلمان ہوں اورآخری نبی ؐ کو بھی مانتا ہوں، ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ نے کہا ہے کہ غالب امکان ہے ملزم کی رائٹنگ خط سے مشابہت رکھتی ہے۔سپریم کورٹ نے توہین رسالت کیس میں سزائے موت کے ملزم وجیہہ الحسن کو بری کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…