اتوار‬‮ ، 08 فروری‬‮ 2026 

امریکی صدر کی مودی کے جلسے میں شرکت، اب بھی ٹرمپ کی ثالثی پر اصرار غداری ہو گی، اب ”ملتانی پیر“ کیا کرے گا؟ زید حامد مشتعل، کھری کھری سنا دیں

datetime 23  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہیوسٹن میں بھارتی وزیراعظم کے جلسے میں شرکت اور مودی کو بہترین دوست کہنے پر معروف مذہبی اسکالر زید حامد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ”ہماری کامیاب سفارتکاری کا جنازہ بڑی دھوم سے نکلا، اس نے اپنے ارادے ظاہر کر دیے ہیں، اب اسے ثالث بنانے کے لیے اصرار کرنا اخیر کی غداری اور حماقت ہو گی مگر توقع کی جا سکتی ہے کہ ملتانی پیر یہی کرے گا اور کروائے گا۔“

دوسری جانب مفتی محمد نعیم نے کہا کہ امریکا،بھارت اتحاد اسلام دشمنی پر مبنی ہے، صدر ٹرمپ کا دہشتگردی کو اسلام سے جوڑناعالم اسلام کی دل آزاری کا باعث ہے، مسلم حکمرانوں کو ہوش لینے کی ضرورت ہے،کافر ملت واحدہ ہیں لیکن افسوس مسلمان اکائیوں میں تقسیم ہوکر تباہی کے دھانے پرہیں،ٹرمپ نے دہشتگردی کو اسلام سے جوڑاافسوس مسلم حکمرانوں میں اخلاقی جرات نہیں رہی اس ہرزہ سرائی کا جواب دے سکیں یا مذمت کرسکیں۔ ان خیالات کا اظہار وفاق المدارس کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن وشیخ الحدیث مفتی محمد نعیم نے جامعہ بنوریہ عالمیہ سے جاری بیان میں کیا۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر پرظلم کیخلاف پوری پاکستانی قوم اپنی حکومت سے ساتھ کھڑی ہے لیکن عالمی طاقتیں اور مسلم حکمران بھارت کی پشت پناہی میں مصروف ہیں،امریکا نے مسلمانوں کو بے گھرکیا، عراق، افغانستان، شام،لیبیاء، یمن اور برما اور فلسطین میں مسلمانوں کا قتل عام کرکے پوری دنیا میں دہشتگردی کی جس پر مسلم حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے ٹھوس آواز بلند نہیں کی بلکہ امریکا اور دیگر اسلام دشمن قوتوں کی مان کر چلتے رہے،جس کے نتائج آج سامنے آرہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کاش مسلم حکمران قرآن مجید اس حکم کو دیکھ لیتے جس میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے یہود ونصریٰ تمہارے اس وقت تک دوست نہیں بن سکتے جب تک تم ان کے دین اختیار نہ کرلو،دہشتگردی کے نام سے پہلے مسلمانوں کو کچلا گیا آج برائے راست اسلام کیخلاف زہیر اگلا جارہاہے،حالانکہ دہشتگردی کا کسی بھی مذہب سے تعلق نہیں ہے،

انہوں نے کہاکہ دنیا کے حالات سے ثابت ہورہاہے ہم نے قرآنی تعلیمات کو نظرانداز کرکے امت مسلمہ کو کمزور کردیا،نریندر مودی، ٹرمپ جیسے بدترین دہشتگرد اسلام کو دہشتگردی سے جوڑرہے ہیں لیکن مسلم حکمرانوں کے اس کی مذمت کرنے کی بھی توفیق نہیں ہورہی ہے، انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کے ٹائٹل سے جب سے مسلمانوں کو کچلنا شروع کیاگیا تھا ہم کہتے رہے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جنگ دنیا کے مفاد میں نہیں بلکہ اسلام کو کچلنے اور دہشتگرد ثابت کرنے کیلئے ہے افسوس ہمارے حکمرانوں نے کان نہ دھرے اور امریکا اور اسلام دشمن قوتوں کو اپنے لیے مسیحا سمجھنے لگے،، انہوں نے کہ افسوس کے آج کسی ایک مسلم حکمران میں اخلاقی جرات باقی نہیں رہی جو ٹرمپ سے اسلام کو دہشتگرد کہنے والے بیان کی وضاحت طلب کرے مذمت کرتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…