پیر‬‮ ، 13 اپریل‬‮ 2026 

امریکی صدر کی مودی کے جلسے میں شرکت، اب بھی ٹرمپ کی ثالثی پر اصرار غداری ہو گی، اب ”ملتانی پیر“ کیا کرے گا؟ زید حامد مشتعل، کھری کھری سنا دیں

datetime 23  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہیوسٹن میں بھارتی وزیراعظم کے جلسے میں شرکت اور مودی کو بہترین دوست کہنے پر معروف مذہبی اسکالر زید حامد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ”ہماری کامیاب سفارتکاری کا جنازہ بڑی دھوم سے نکلا، اس نے اپنے ارادے ظاہر کر دیے ہیں، اب اسے ثالث بنانے کے لیے اصرار کرنا اخیر کی غداری اور حماقت ہو گی مگر توقع کی جا سکتی ہے کہ ملتانی پیر یہی کرے گا اور کروائے گا۔“

دوسری جانب مفتی محمد نعیم نے کہا کہ امریکا،بھارت اتحاد اسلام دشمنی پر مبنی ہے، صدر ٹرمپ کا دہشتگردی کو اسلام سے جوڑناعالم اسلام کی دل آزاری کا باعث ہے، مسلم حکمرانوں کو ہوش لینے کی ضرورت ہے،کافر ملت واحدہ ہیں لیکن افسوس مسلمان اکائیوں میں تقسیم ہوکر تباہی کے دھانے پرہیں،ٹرمپ نے دہشتگردی کو اسلام سے جوڑاافسوس مسلم حکمرانوں میں اخلاقی جرات نہیں رہی اس ہرزہ سرائی کا جواب دے سکیں یا مذمت کرسکیں۔ ان خیالات کا اظہار وفاق المدارس کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن وشیخ الحدیث مفتی محمد نعیم نے جامعہ بنوریہ عالمیہ سے جاری بیان میں کیا۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر پرظلم کیخلاف پوری پاکستانی قوم اپنی حکومت سے ساتھ کھڑی ہے لیکن عالمی طاقتیں اور مسلم حکمران بھارت کی پشت پناہی میں مصروف ہیں،امریکا نے مسلمانوں کو بے گھرکیا، عراق، افغانستان، شام،لیبیاء، یمن اور برما اور فلسطین میں مسلمانوں کا قتل عام کرکے پوری دنیا میں دہشتگردی کی جس پر مسلم حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے ٹھوس آواز بلند نہیں کی بلکہ امریکا اور دیگر اسلام دشمن قوتوں کی مان کر چلتے رہے،جس کے نتائج آج سامنے آرہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کاش مسلم حکمران قرآن مجید اس حکم کو دیکھ لیتے جس میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے یہود ونصریٰ تمہارے اس وقت تک دوست نہیں بن سکتے جب تک تم ان کے دین اختیار نہ کرلو،دہشتگردی کے نام سے پہلے مسلمانوں کو کچلا گیا آج برائے راست اسلام کیخلاف زہیر اگلا جارہاہے،حالانکہ دہشتگردی کا کسی بھی مذہب سے تعلق نہیں ہے،

انہوں نے کہاکہ دنیا کے حالات سے ثابت ہورہاہے ہم نے قرآنی تعلیمات کو نظرانداز کرکے امت مسلمہ کو کمزور کردیا،نریندر مودی، ٹرمپ جیسے بدترین دہشتگرد اسلام کو دہشتگردی سے جوڑرہے ہیں لیکن مسلم حکمرانوں کے اس کی مذمت کرنے کی بھی توفیق نہیں ہورہی ہے، انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کے ٹائٹل سے جب سے مسلمانوں کو کچلنا شروع کیاگیا تھا ہم کہتے رہے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جنگ دنیا کے مفاد میں نہیں بلکہ اسلام کو کچلنے اور دہشتگرد ثابت کرنے کیلئے ہے افسوس ہمارے حکمرانوں نے کان نہ دھرے اور امریکا اور اسلام دشمن قوتوں کو اپنے لیے مسیحا سمجھنے لگے،، انہوں نے کہ افسوس کے آج کسی ایک مسلم حکمران میں اخلاقی جرات باقی نہیں رہی جو ٹرمپ سے اسلام کو دہشتگرد کہنے والے بیان کی وضاحت طلب کرے مذمت کرتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…