جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

مینڈکوں کو کس مقصد کیلئے کہاں لیکر جارہے تھے؟گرفتار ملزموں نے سب کچھ اگل دیا،جانتے ہیں مقدمہ کس قانون کے تحت درج ہوگا؟پولیس چکراکر رہ گئی

datetime 22  ستمبر‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی )مینڈکو ں کی برآمدگی کے واقعہ نے پنجاب پولیس کو قانون کی کتب پڑھنے اور ماہرین سے مشاورت پر مجبور کر دیا ۔بتایا گیاہے کہ تھانہ شاہدرہ ٹائون کی حدود سے پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے مردہ اور زندہ حالات میں بڑی تعداد میں مینڈک برآمد کر لئے ۔

اطلاعات کے برآمد کئے گئے مینڈکوں کا وزن کیا گیا تو وہ پانچ من نکلا۔بتایا گیا ہے کہ پولیس افسران کے لئے اس وقت مشکل کھڑی ہو گئی جب معلوم ہوا کہ ملکی قوانین کے تحت مینڈکوں کی برآمدگی ہونے سے متعلق مقدمہ درج کرنے کے لیے کوئی قانون موجود ہی نہیں ۔ذمہ دار ذرائع کے مطابق پولیس حکام نے اس سلسلے میں قانون کی شق معلوم کرنے کے لیے محکمہ وائلڈ لائف سے بھی رابطہ کیا تو اسے سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہاں سے بتایا گیا کہ مینڈک سے ان کا کوئی تعلق نہیں ۔پولیس کے ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان نے اس ضمن میں موقف اپنایا ہے کہ وہ مینڈکوں کو میڈیکل کالجوں کو فراہم کرنے کے لیے اپنے ہمراہ لے جارہے تھے جہاں طلبا ء و طالبات نے ان پر تجربات کرنے تھے۔ملزمان مینڈکوں کو عرصہ دراز سے مختلف علاقوں کی چھپڑوں،دریائوں اور نالوں وغیرہ سے پکڑتے ہیں۔ڈی ایس پی شاہدرہ نے ملزمان کی حراستگی اور مینڈکوں کی برآمدگی کی تصدیق کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ ملزمان کے خلاف کیا کارروائی کی جائے اس ضمن میں جلد فیصلہ کرلیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…