نیب اور نواز شریف کے درمیان ڈیل کی خبریں،حکومت کا حیرت انگیز ردعمل سامنے آگیا

  جمعرات‬‮ 19 ستمبر‬‮ 2019  |  19:01

کوئٹہ (این این آئی)وفاقی وزیرداخلہ بریگیڈئیر (ر) اعجاز احمد شاہ نے کہا ہے کہ دھرنے دینے کے بجائے ہمیں کشمیریوں سے یکجہتی کیلئے فرنٹ پر آنا چاہیے، یقین ہے مولانافضل الرحمن دھرنا نہیں دیں گے،اگر مولانافضل الرحمن دھرنا دینا چاہتے ہیں تو بسم اللہ،اگر وہ گرفتاری کا کام کریں یا قانو ن ہاتھ میں لیں گے تو انہیں گرفتار کیا جائیگا،نواز شریف نیب کے قیدی ہیں حکومت ان سے کوئی ڈیل نہیں کر رہی، نیب میں پلی بارگین سمیت دیگر قوانین موجود ہیں نیب اور نواز شریف کے درمیان ڈیل کے حوالے سے کوئی علم نہیں، ضرورت پڑی تو طور خم


کی طرح چمن بارڈر بھی 24گھنٹے کھلے رکھنے کیلئے اقدامات کریں گے، بلوچستان میں حکومت کے درمیان کوئی اختلافات نہیں۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو سول سیکرٹریٹ کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی،اس موقع پر چیف سیکرٹر ی بلوچستان کیپٹن (ر) فضیل اصغر، سیکرٹری داخلہ بلوچستان حیدر علی شکوہ، کمشنر کوئٹہ ڈویژن عثمان علی خان سمیت دیگر بھی انکے ہمرا ہ تھے۔برگیڈئیر (ر) اعجاز شاہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن پڑھے لکھے آدمی ہیں ہمارے کشمیری بھائی 40دن سے زائد عرصے سے کرفیو کا شکار ہیں وہاں ادویات، راشن سمیت دیگر سہولیات ناپید ہیں اس موقع پر ہمیں دھرنے دینے کے بجائے ملکر یکجہتی کا اظہارکریں اور مشترکہ فرنٹ پر آئیں،انہوں نے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے مولانافضل الرحمن دھرنا نہیں دیں گے وہ خود بھی کشمیری کمیٹی کے چیئر مین رہے ہیں انہیں حالات کا اندازہ ہے،مولانا فضل الرحمن اسلام آباد روزآتے ہیں پرسوں بھی وہیں تھے، اگر وہ دھرنے کے لئے آئیں تو انہیں خوش آمدید وہ قانون ہاتھ میں نہ لیں اگر وہ گرفتاری کا کام کریں گے تو انہیں گرفتار کیا جائیگا دھرنا دینا کوئی گرفتاری کا کام نہیں وہ آئیں بسم اللہ،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کا نیب کے معاملات سے تعلق نہیں، نواز شریف پر نیب نے کیس کیا نیب سے ڈیل ہوتی رہتی ہے پلی بارگین سمیت دیگر قوانین موجود ہیں ہیں لیکن چیئر مین نیب نے اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی اور اس حوالے سے مجھے علم نہیں، نواز شریف نیب کے قیدی ہیں حکومت سے ڈیل کیوں ہوگی؟ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی جرم کرتا ہوا پکڑا جائے توکیا وہ حکومت کو ٹف ٹائم دیگا، ٹف ٹائم دینے کی کوئی بات نہیں روٹین کے معاملات چلتے رہے ہیں انہوں نے پنجابی کا محاورہ بھی کہا کہ ”جناں کھادیاں گاجراں ٹھڈ اوناں دے پیڑ“خورشید شاہ کی گرفتاری سے کچھ نہیں ہوگا  انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کوئی اتحادی ناراض نہیں ناراضگیاں گھر میں بھی ہو جاتی ہیں کوئی ایسی بات نہیں کہ جس پر طلاق پر معاملات چلے جائیں، وزیرداخلہ اعجاز احمد شاہ نے کہا کہ اس میں کوئی شق نہیں کہ ملک میں مہنگائی ہے لیکن حکومت اپنے مشن پر چلتے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کر ے اور عوام کی مشکلات کو کم کریگی انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں کے دشمن ممالک اپنے لوگ ہمارے ملک میں بھیج کر کاروائیاں کریں بدقسمتی سے ہمارے اپنے لوگوں کو دشمن استعمال کرتا ہے ہمیں چاہیے کہ اپنے معاشرے کو بھارتی عزائم سے متعلق آگاہ کریں بھارت پاکستان میں دہشتگردی کر وا رہا ہے اورکریگا مداخلت پر بات چیت کے بہت سے طریقے ہیں ہم سارے طریقے اپناتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ طو ر خم بارڈر کو 24گھنٹے تجار ت کے لئے کھلا رکھنے کا مقصد عوام اور تاجروں کو سہولیات فراہم کرنا ہے اگر چمن سے منسلک افغان بارڈر پر بھی ضرورت پڑی تو اسے بھی 24گھنٹے کھلا رکھنے کے لئے اقدامات کریں گے اگر ہمارے وسائل اور استعداد کار ہوگی تو چمن بارڈر کو بھی 24گھنٹے کھولا جائیگا،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیف سٹی منصوبے وقت کی اہم ضرورت ہیں اس پر کام جاری ہے لیکن اسکی پیش رفت کا جائزہ لیں گے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بڑے شہروں میں سیف سٹی منصوبے بنائے جائیں گے،انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے پر سیکورٹی فورسز کو سراہنے کے لئے آیا ہوں، بلوچستان میں سکیورٹی فورسزکو رپیش مسائل سنے ہیں بلوچستان میں امن وامان کی بہتری کیلئے تمام فورسز نے بہترین کام کیا ہے، پاسپورٹ، نادرا، ایف آئی اے کو بھی ملے ہیں اور بات چیت ہوئی ہے ہم سکیورٹی فورسز کی استعداد کار کو بڑھانا چاہتے ہیں بلوچستان میں 10سے  15سال کام کرنے کا تجربہ ہے لیکن اب صوبے کا دورہ کر کے چیزوں کو مزید بہتر انداز میں سمجھ سکا ہوں اور اسلام آباد جا کر بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے اقدامات کرونگا بلوچستان میں صورتحال پہلے سے بہت بہتر ہے ہمیں مثبت روئیے رکھنے چاہئیں، میڈیا تنقید کے ساتھ ساتھ اچھے کاموں کو بھی سامنے لائے،اعداد و شمار سے ہٹ کر لوگ ذہنی طور پر امن و امان کی صورتحال سے مطمئن ہیں پہلے کی نسبت مسائل کے باوجود بھی امن و امان کی صورتحال بہتر ہے انہوں نے کہا کہ جرائم پوری دنیا میں ہوتے ہیں حکومت نے جرائم کے بعد ری ایکشن کیا ہے اور معاملات کو بہتر کیا ہے فورسز نے بہت سی دہشتگردی کی کاروائیاں روکی ہیں جو سکیورٹی وجوہات کی بناء پر نہیں بتا سکتے انہوں نے کہا کہ یہ ملک ہے تو ہم ہیں ورنہ ہم بڑا گوشت بھی کھا نہیں سکتیس،وزیراعظم کی سربراہی میں حکومت کا مشن عوا م کی زندگی آسان بنا نا ہے انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت میں درپردہ اسٹیبلشمنٹ کسی زمانے میں ہوتی تھیں اب سارا کچھ پردے کے اوپر ہے۔

موضوعات:

loading...