منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملے کے الزام میں گرفتار محسن داوڑ اور علی وزیر کی رہائی کے احکامات جاری

datetime 18  ستمبر‬‮  2019 |

پشاور(این این آئی)پشاور ہائی کورٹ نے شمالی وزیرستان میں ’سکیورٹی چیک پوسٹ پر مظاہرین اور سیکورٹی فورسزکے درمیان تصادم‘ کے بعد گرفتار ہونے والے پشتون تحفظ موومنٹ کے ممبران قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کی طرف سے ضمانت کے لیے

دائر درخواستیں منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔یہ احکامات پشاور ہائی کورٹ بنوں بینچ کے جسٹس ناصر محمود پر مشتمل ایک رکنی بینچ نے بدھ کو درخواستوں پر دلائل مکمل ہونے کے بعد جاری کیے۔ملزمان کے وکیل طارق افغان ایڈوکیٹ کے مطابق ان کے موکلین محسن داوڑ اور علی وزیر کے خلاف شمالی وزیرستان کے علاقے خر قمر میں 25 مئی کو سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کے الزام میں مقدمات درج کیے گئے تھے اور بعد میں دونوں ارکانِ قومی اسمبلی کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ ماتحت عدالت سے ملزمان کی ضمانت کے لیے دائر درخواستیں خارج کر دی گئی تھیں، تاہم بعد میں ملزمان نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ان کے مطابق بدھ کو عدالت عالیہ کی طرف سے دونوں طرف کے وکلا کے دلائل سنے گئے جس کے بعد دونوں ملزمان کی رہائی کے لیے درخواستیں منظور کرلی گئیں اور اس طرح عدالت کی طرف سے ان کی رہائی کے احکامات جاری کر دیے گئے۔ان کے وکیل کے مطابق ملزمان کو ایک دو دن میں ہری پور جیل سے رہا کر دیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…