گھوٹکی،توہین مذہب پر ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف 3 مقدمات درج،22افراد کو نامزد کردیاگیا،توہین کا مبینہ مرتکب سکول پرنسپل سے متعلق حیرت انگیزانکشاف

  پیر‬‮ 16 ستمبر‬‮ 2019  |  21:39

گھوٹکی (این این آئی)ضلع گھوٹکی میں مبینہ توہین مذہب کے الزام پر اقلیتی برادری کی عبادت گاہوں اور املاک کو نقصان پہنچانے، ہنگامہ آرائی کرنے اور علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے والوں کے خلاف 3 مقدمات درج کرلیے گئے۔ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (آئی جی) سکھر جمیل احمد کے مطابق تمام مقدمات گھوٹکی کے ایک تھانے میں سرکار کی مدعیت میں درج کیے گئے۔مشتعل مظاہرین کے خلاف مقدمات تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295، 147 اور 149 کے تحت درج کیے گئے۔ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) جمیل احمد کا کہنا تھا کہ دفعہ 295 کو اس لیے شامل کیا گیا ہے


کیونکہ مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی کے دوران ہندو برادری کی عبادت گاہ کو نقصان پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے یہ ایف آئی آر 45 افراد کے خلاف درج کی جس میں 22 افراد کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ 23 افراد نامعلوم ہیں۔علاوہ ازیں سڑک بلاک کرنے پر 150 افراد کے خلاف ایک علیحدہ مقدمہ درج کیا گیا، جس میں 27 افراد کے نام درج کیے گئے ہیں جبکہ 123 افراد نامعلوم ہیں۔تیسرا مقدمہ توڑ پھوڑ اور املاک کی چوری سے متعلق ہے جو مجموعی طور پر 34 افراد کے خلاف درج کیا گیا، جس میں 23 افراد کو نامزد کیا گیا جبکہ 11 افراد نامعلوم ہیں۔دوسری جانب پولیس نے ہنگامہ آرائی کے دوران توڑ پھوڑ کا شکار ہونے والے اسکول کی انتظامیہ سے کہا کہ ایسے لوگوں کے خلاف علیحدہ مقدمہ درج کروائیں جنہوں نے عمارت کے انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا۔پولیس نے اسکول انتظامیہ کو کہا کہ اگر وہ درخواست گزار بننے اور کیس کے اندراج میں ہچکچاہٹ کا شکار ہونے پر پولیس حکام کو آگاہ کریں تاکہ ریاست کی مدعیت میں یہ کیس درج کیا جائے۔مبینہ طور پر توہین مذہب کے مرتکب اسکول پرنسپل سے متعلق سوال کے جواب میں اے آئی جی سکھر کا کہنا تھا کہ امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد انہیں قانونی کارروائی کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

موضوعات:

loading...