غیر ہنرمند مزدوروں کی کم سے کم اجرت بڑھادی گئی،اطلاق تمام فیکٹریوں اور صنعتی زونز اور جہاں جہاں غیر ہنر مند مزدور کام کرتے ہیں پرہوگا

  پیر‬‮ 16 ستمبر‬‮ 2019  |  20:01

کراچی (آن لائن) وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ غیر ہنرمند مزدوروں کی کم سے کم اجرت رواں سال 16200 سے بڑھا کر 17500 روپے روپے کردی گئی ہے اور اس کا اطلاق تمام فیکٹریوں اور صنعتی زونز اور جہاں جہاں غیر ہنر مند مزدور کام کرتے ہیں اس پر ہوتا ہے۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں محکمہ محنت کے تحت ڈسپنسریاں اور اسپتال قائم اور ان کو اپ گریڈ کیا گیا ہے اور اس پر 52 ملین کے اخراجات کئے گئے ہیں۔ ملازمین کی ٹائم 8 گھنٹے ڈیوٹی کے ہیں اور اس زائد اگر وہ


کام کرتے ہیں تو انہیں اس کا اوور ٹائم دیا جاتا ہے اور اگر کوئی اس سے زائد ڈیوٹی لیتا ہے تو اس کی بھی شکایات لیبر بورڈ اور محکمہ محنت میں کی جاسکتی ہے۔  لیبر قانون کی سیکشن 9 کی سب سیکشن 3 کے تحت 6 ماہ کی سزا،  20 سے 50 ہزار تک کا جرمانہ اور جو اجرت مزدورو کو کم دی گئی ہے چاہے وہ کتنے ہی ماہ کی کیوں نہ ہو اس تمام کی ادائیگی کرائی جاتی ہے۔ رجسٹرڈ مزدور دوران ملازمت وفات پا جائے تو اس کی فیملی کو ورکر ویلفئیر بورڈ کے ذریعے 5 لاکھ روپے کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ وہ پیر کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات میں محکمہ محنت کے حوالے سے مختلف ارکان کے سوالات اور ان کے ضمنی سوالوں کے جواب میں کیا۔ اپوزیشن رکن عمر عماری کے تحریری سوالات کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں محکمہ محنت کے تحت ڈسپنسریاں اور اسپتال قائم اور ان کو اپ گریڈ کیا گیا ہے اور اس پر 52 ملین کے اخراجات کئے گئے ہیں۔جن میں کراچی، سکھر، شہید بینظیر آباد، گھوٹکی سمیت دیگر اضلاع شامل ہیں۔ خاتون رکن غزالہ سیال کے ایک سوال اور اس کے مختلف ارکان کی جانب سے پوچھے گئے ضمنی سوالات کے جواب میں وزیر محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ مزدوروں کی کم سے کم اجرت اس سال 17500 روپے کردی گئی تھی، جو گذشتہ سال 16200 روپے تھی۔ انہوں نے کہا کہ کم سے کم اجرت کے اطلاق کے لئے ایک بورڈ حکومت سندھ کی جانب سے تشکیل دیا گیا ہے، جو معاشی اور صنعتی حالات کے تناظر میں اس کا تعین کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی فیکٹری مالک یا صنعتی زون اس پر عمل درآمد نہیں کرتا اور وہ غیر ہنر مند مزدور کو کم سے کم اجرت جو سندھ حکومت کے کم سے کم اجرت بورڈ نے متعین کئے ہیں تو وہ مزدور اس کی شکایات لیبر بورڈ یا محکمہ محنت میں براہ راست اس کی شکایات کا اندرج کراسکتا ہے اور لیبر بورڈ اس کی شکایات کے ازالے کے لئے مذکورہ فیکٹری اور صنعتی زون کو نوٹس بھیج کر اس کا یہ مسئلہ حل کرتا ہے اور اگر یہ معاملہ اس طرح حل نہیں ہوتا تو کیس کو لیبر کورٹ میں بھیج دیا جاتا ہے او ر وہ اس کا فیصلہ کرتا ہے اور یہ اختیار مذکورہ مزدور کے پاس بھی ہے کہ وہ ازخود بھی لیبر کورٹ جاسکتا ہے۔ ایک ضمنی سوال پر وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کم سے کم اجرت کے حوالے سے بنائے گئے بورڈ میں مزدوروں کے نمائندوں کو بھی نمائندگی دی گئی ہے اور وہ اس سلسلے میں مزدوروں کی کم سے کم اجرت کے تعین کے لئے اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور انہی کے ذریعے تمام فیکٹریوں اور صنعتوں میں مزدوروں کی یونینوں اور تنظیموں کو اس سے آگاہ اور مشاورت کرکے اس کا تعین کراتا ہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ واسا میں گذشتہ کچھ ماہ قبل اس بات کی شکایات ملی تھی کہ وہاں کنڈی مین کو ٹھیکیداری نظام کے تحت رکھا گیا اور ان کی اجرت کم سے کم اجرت سے کم رکھی گئی، جس کا سندھ حکومت نے نوٹس لیا ہے اور اس کا سدباب کیا جارہا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صوبے میں 10 ہزار سے زائد یونٹس رجسٹرڈ ہیں اور اس کے علاوہ یہاں لاکھوں کی تعداد میں مزدور کام کرتے ہیں اور محکمہ محنت جہاں تک ممکن ہو اس کا انسپیکشن کرتا ہے لیکن مجھے اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ تمام مزدوروں کو کم سے کم اجرت ملتی ہے اس کو نہیں دیکھ سکتے۔ رعنا انصار کے ایک سوال کے جواب میں وزیر محنت نے تحریری جواب دیا کہ 2018-19 میں ملازمین کی کم سے کم اجرت 10 ہزار نہیں بلکہ 16200 مقرر کی گئی تھی اور اب اس سال یہ 17500 کردی گئی ہے۔انہوں نے ایوان کو بتایا کہ نجی شعبہ اور کمپنیوں میں کم سے کم اجرت پر عمل درآمد کے لئے ڈائریکٹوریٹ لیبر کے افسران کی جانب سے نگرانی کی جاتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ملازمین کی ٹائم 8 گھنٹے ڈیوٹی کے ہیں اور اس زائد اگر وہ کام کرتے ہیں تو انہیں اس کا اوور ٹائم دیا جاتا ہے اور اگر کوئی اس سے زائد ڈیوٹی لیتا ہے تو اس کی بھی شکایات لیبر بورڈ اور محکمہ محنت میں کی جاسکتی ہے۔ خاتون رکن نصرت سحر کے ایک ضمنی سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ مزدوروں کے ساتھ اجرت کی پوری ادائیگی اور دیگر مسائل کے لئے محکمہ محنت کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ لاکھوں مزدوروں کے مسائل سے آگاہ رہے۔ البتہ ہماری کوشش ہے کہ ہم اس سلسلے میں مزدورں کی یونین، تنظیموں اور فیڈریشن کو ملو ث کرکے ان کے ذریعے مزدوروں کے مسائل سے آگاہی لیتے ہیں اور ان کا تدارک کرتے ہیں۔ ایکضمنی سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ جو نجی کمپنی یا فیکٹری اور دیگر میں مزدوروں کو کم سے کم اجرت نہیں دی جاتی اس کو لیبر قانون کی سیکشن 9 کی سب سیکشن 3 کے تحت 6 ماہ کی سزا،  20 سے 50 ہزار تک کا جرمانہ اور جو اجرت مزدورو کو کم دی گئی ہے چاہے وہ کتنے ہی ماہ کی کیوں نہ ہو اس تمام کی ادائیگی کرائی جاتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ سوشل سیکورٹی کے رجسٹرڈ مزدوروں کی فلاح و بہبود پر جو رقم فنڈز کے ذریعے جمع ہوتی ہے اس پر خرچ کی جاتی ہے اور ان کو صحت، تعلیم،رہائش، خاتون کو زچگی الاؤنس، عدت الاؤنس، دوران ملازمت معذوری پر بھی ادا کئے جاتے ہیں۔ اور باقی مانندہ فنڈز مختلف بینکوں میں سرمایہ کاری کے لئے رکھا جاتا ہے اور اس کے منافع کو بھی انہی رجسٹرڈ ملازمین کی فلاح  و بہبود کے لئے خرچ کئے جاتے ہیں۔ ایک ضمنی سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جو رجسٹرڈ مزدور دوران ملازمت وفات پا جائے تو اس کی فیملی کو ورکر ویلفئیر بورڈ کے ذریعے 5 لاکھ روپے کی ادائیگی کی جاتی ہے اور اس کی شفافیت کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو تمام ضروری کارروائی کے بعد مذکورہ فیملی کو کراس چیک کے ذریعے اس کی ادائیگی کرتی ہے۔ قبل ازیں وزیر اطلاعات و محنت سندھ کی زیر صدارت پیر کی صبح ان کے دفتر میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری محنت عبدالرشید سولنگی، کمشنر سیسی کاشف گلزار اور دیگر اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔ اجلاس میں محکمہ محنت کی جانب سے صوبے بھر میں مزدوروں کو دی جانے والی صحت، تعلیم، رہائش اور دیگر سہولیات کے حوالے سے صوبائی وزیر کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سعید غنی نے اس بات پر زور دیا کہ مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کو مفت طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے اور محکمہ محنت کے تحت تمام اسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں مزدوروں اور ان کے اہلخانہ کو طبی سہولیات کی زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کو یقین بنایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ محکمہ محنت کے سیسی، ورکر ویلفئیر بورڈ اور دیگر مل کر مزدوروں کی فلاح و بہبود، ان کو اور ان کے اہلخانہ کو صحت اور تعلیم کی سہولیات کی فراہمی اور رہائش کے لئے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے۔

موضوعات:

loading...