لوئر دیر دھماکے میں شہید ہیڈ کانسٹیبل کی جیب سے ملنے والی پرچی میں ایسا کیا تحریر تھا جس نے سب کوآبدیدہ کردیا

  جمعرات‬‮ 12 ستمبر‬‮ 2019  |  16:05

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا پولیس کے کانسٹیبل سیف اللہ جو 4 ستمبر کو لاجبوک میں بیاری کے مقام پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں شہید ہو گئے تھے۔اس کی جیب سے ملنے والی پرچی میں اس کے ادھار کا حساب درج تھا۔قرض کی اس پرچی میں تحریر تھا کہ اسے اپنے ساتھی اہلکار کے 60 روپے ادا کرنے ہیں جب کہ ہیڈ کانسٹیبل کے 200 روپے وہ ادا کرچکا تھا۔اس کے علاوہ احمد زیب نامی شخص کے 5 ہزار، افتخار نامی شخص کے 3 ہزار،سہیل احمد نامی شخص کے 250 روپے، افتخار نامی شخص کے 3ہزار روپے اور ایک


دکاندار فرحان کے 300 روپے لوٹانے کی رقوم بھی تحریر تھی۔ سیف اللہ کے بھائی نے بتایا کہ ان کے بھائی اس وقت شہید ہوئے جب وہ معمول کے گشت پر تھے۔ سیف اللہ کے دوست کا کہنا ہے کہ اس کی ایمانداری، ذمہ داری اور شہادت نے اہلخانہ، گاؤں والوں اور محکمہ پولیس کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔شہید کانسٹیبل سیف اللہ نے سوگواران میں بیوہ، دو بچے چھوڑے ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

استنبول یا دہلی ماڈل

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎