ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

لوئر دیر دھماکے میں شہید ہیڈ کانسٹیبل کی جیب سے ملنے والی پرچی میں ایسا کیا تحریر تھا جس نے سب کوآبدیدہ کردیا

datetime 12  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا پولیس کے کانسٹیبل سیف اللہ جو 4 ستمبر کو لاجبوک میں بیاری کے مقام پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں شہید ہو گئے تھے۔اس کی جیب سے ملنے والی پرچی میں اس کے ادھار کا حساب درج تھا۔قرض کی اس پرچی میں تحریر تھا کہ اسے اپنے ساتھی اہلکار کے 60 روپے ادا کرنے ہیں جب کہ ہیڈ کانسٹیبل کے 200 روپے وہ ادا کرچکا تھا۔اس کے علاوہ احمد زیب نامی شخص کے 5 ہزار، افتخار نامی شخص کے 3 ہزار،

سہیل احمد نامی شخص کے 250 روپے، افتخار نامی شخص کے 3ہزار روپے اور ایک دکاندار فرحان کے 300 روپے لوٹانے کی رقوم بھی تحریر تھی۔ سیف اللہ کے بھائی نے بتایا کہ ان کے بھائی اس وقت شہید ہوئے جب وہ معمول کے گشت پر تھے۔ سیف اللہ کے دوست کا کہنا ہے کہ اس کی ایمانداری، ذمہ داری اور شہادت نے اہلخانہ، گاؤں والوں اور محکمہ پولیس کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔شہید کانسٹیبل سیف اللہ نے سوگواران میں بیوہ، دو بچے چھوڑے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…