جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

لوئر دیر دھماکے میں شہید ہیڈ کانسٹیبل کی جیب سے ملنے والی پرچی میں ایسا کیا تحریر تھا جس نے سب کوآبدیدہ کردیا

datetime 12  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا پولیس کے کانسٹیبل سیف اللہ جو 4 ستمبر کو لاجبوک میں بیاری کے مقام پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں شہید ہو گئے تھے۔اس کی جیب سے ملنے والی پرچی میں اس کے ادھار کا حساب درج تھا۔قرض کی اس پرچی میں تحریر تھا کہ اسے اپنے ساتھی اہلکار کے 60 روپے ادا کرنے ہیں جب کہ ہیڈ کانسٹیبل کے 200 روپے وہ ادا کرچکا تھا۔اس کے علاوہ احمد زیب نامی شخص کے 5 ہزار، افتخار نامی شخص کے 3 ہزار،

سہیل احمد نامی شخص کے 250 روپے، افتخار نامی شخص کے 3ہزار روپے اور ایک دکاندار فرحان کے 300 روپے لوٹانے کی رقوم بھی تحریر تھی۔ سیف اللہ کے بھائی نے بتایا کہ ان کے بھائی اس وقت شہید ہوئے جب وہ معمول کے گشت پر تھے۔ سیف اللہ کے دوست کا کہنا ہے کہ اس کی ایمانداری، ذمہ داری اور شہادت نے اہلخانہ، گاؤں والوں اور محکمہ پولیس کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔شہید کانسٹیبل سیف اللہ نے سوگواران میں بیوہ، دو بچے چھوڑے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…