پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

اے ٹی ایم کارڈ چور صلاح الدین پر مبینہ تشدد کا معاملہ، پنجاب پولیس نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو کیس کی جھوٹی رپورٹ بھیج دی

datetime 5  ستمبر‬‮  2019 |

رحیم یار خان (مانیٹرنگ ڈیسک) اے ٹی ایم چور صلاح الدین کی پولیس کی حراست میں ہلاکت پر پنجاب حکومت نے جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا ہے، صلاح الدین کے وکیل حسان خان نیازی نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کو اطلاع موصول ہوئی ہے کہ پنجاب پولیس نے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو صلاح الدین کیس کی جھوٹی رپورٹ بھیج دی ہے۔

وکیل نے کہا کہ مقتول صلاح الدین کے ورثاء کی اجازت کے بغیر صبح پانچ بجے اس کا پوسٹ مارٹم کر دیا گیا، غسل دیتے ہوئے معلوم ہوا کہ صلاح الدین پر شدید تشدد کیا گیا تھا۔ وکیل نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ جب صلاح الدین کو قتل کر دیا گیا تو اس کی میت اس کے والد کو نہیں دی جا رہی تھی اور جب بھی کوئی فون کر کے پولیس والوں سے پوچھتا اور صلاح الدین کا نام لیتا تو پولیس والے فون بند کر دیتے تھے۔ واضح رہے کہ رحیم یار خان میں پولیس حراست میں جاں بحق ہونے والے صلاح الدین کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق متوفی کی جسم پر کچھ نشانات ملے ہیں جسکی وجوہات جاننے کے لئے جسم کے مختلف مقامات سے گوشت کاٹ کر لیب کو دیا ہے۔آر پی او بہاولپور عمران محمود نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ صلاح الدین کا پوسٹ مارٹم ایم ایس شیخ زاہد ہسپتال کی قیادت میں پانچ سینئر ڈاکٹروں کے بورڈ نے کیا۔انہوں نے کہاکہ پوسٹ مارٹم ڈاکٹروں کے بورڈ نے کیا جس کی ابتدائی رپورٹ کے بعد ہی پریس کانفرنس کی جاسکتی تھی۔انہوں نے بتایا کہ موت کے وقت خون رکنے سے نشانات بن جاتے ہیں، تشدد ہوا یا نہیں ہوا فیصلہ ڈاکٹر کریں گے۔آر پی او بہاول پور نے کہا کہ سوشل میڈیا پر لاش کی فوٹو اور ویڈیو لگا کر بے حرمتی کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ صلاح الدین کیس میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی، اس طرح کے واقعات ہوجاتے ہیں۔عمران محمود کے مطابق کیس کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی نے سخت نوٹس لیا ہے۔اس موقع پر وزیر قانون پنجاب کا کہنا تھا کہ صلاح الدین کی کچھ میڈیکل رپورٹس آچکی ہیں جن کا تجزیہ کرنا باقی ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ کوئی بھی ذمہ دار شخص نہیں بچ سکے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…