منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

اے ٹی ایم کارڈ چور صلاح الدین پر مبینہ تشدد کا معاملہ، پنجاب پولیس نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو کیس کی جھوٹی رپورٹ بھیج دی

datetime 5  ستمبر‬‮  2019 |

رحیم یار خان (مانیٹرنگ ڈیسک) اے ٹی ایم چور صلاح الدین کی پولیس کی حراست میں ہلاکت پر پنجاب حکومت نے جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا ہے، صلاح الدین کے وکیل حسان خان نیازی نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کو اطلاع موصول ہوئی ہے کہ پنجاب پولیس نے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو صلاح الدین کیس کی جھوٹی رپورٹ بھیج دی ہے۔

وکیل نے کہا کہ مقتول صلاح الدین کے ورثاء کی اجازت کے بغیر صبح پانچ بجے اس کا پوسٹ مارٹم کر دیا گیا، غسل دیتے ہوئے معلوم ہوا کہ صلاح الدین پر شدید تشدد کیا گیا تھا۔ وکیل نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ جب صلاح الدین کو قتل کر دیا گیا تو اس کی میت اس کے والد کو نہیں دی جا رہی تھی اور جب بھی کوئی فون کر کے پولیس والوں سے پوچھتا اور صلاح الدین کا نام لیتا تو پولیس والے فون بند کر دیتے تھے۔ واضح رہے کہ رحیم یار خان میں پولیس حراست میں جاں بحق ہونے والے صلاح الدین کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق متوفی کی جسم پر کچھ نشانات ملے ہیں جسکی وجوہات جاننے کے لئے جسم کے مختلف مقامات سے گوشت کاٹ کر لیب کو دیا ہے۔آر پی او بہاولپور عمران محمود نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ صلاح الدین کا پوسٹ مارٹم ایم ایس شیخ زاہد ہسپتال کی قیادت میں پانچ سینئر ڈاکٹروں کے بورڈ نے کیا۔انہوں نے کہاکہ پوسٹ مارٹم ڈاکٹروں کے بورڈ نے کیا جس کی ابتدائی رپورٹ کے بعد ہی پریس کانفرنس کی جاسکتی تھی۔انہوں نے بتایا کہ موت کے وقت خون رکنے سے نشانات بن جاتے ہیں، تشدد ہوا یا نہیں ہوا فیصلہ ڈاکٹر کریں گے۔آر پی او بہاول پور نے کہا کہ سوشل میڈیا پر لاش کی فوٹو اور ویڈیو لگا کر بے حرمتی کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ صلاح الدین کیس میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی، اس طرح کے واقعات ہوجاتے ہیں۔عمران محمود کے مطابق کیس کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی نے سخت نوٹس لیا ہے۔اس موقع پر وزیر قانون پنجاب کا کہنا تھا کہ صلاح الدین کی کچھ میڈیکل رپورٹس آچکی ہیں جن کا تجزیہ کرنا باقی ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ کوئی بھی ذمہ دار شخص نہیں بچ سکے گا۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…