پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

حکومت کی جانب سے 228 ارب روپے کے قرضے معاف کئے جانے کا انکشاف،جن کے قرضے معاف کئے گئے وہ لوگ کون ہیں؟سٹیٹ بینک سے رپورٹ طلب

datetime 1  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے 228 ارب روپے کے قرضے معاف کرنے کی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے قرضہ معافی پر ایف آئی اے اور گورنر سٹیٹ بنک سے دو ہفتوں کے اندر رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ایک بیان میں رحمن ملک نے کہاکہ ایف آئی اے و سٹیٹ بنک بتائے کہ کون کونسے لوگوں کے قرضے معاف کئے گئے۔ انہوں نے کہاکہ جن لوگوں کے قرضے معاف کئے گئے ہیں انکی لسٹ کمیٹی کو فراہم کی جائے؟۔انہوں نے کہاکہ بہت سے نادہندگان کیخلاف ایف آئی اے میں کیس چل رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ جن

نادہندگان کیخلاف ایف آئی اے تفتیش کر رہی ہے کیا انکے قرضے بھی معاف کئے گئے؟۔انہوں نے کہاکہ بتایا جائے کہ کس قانون اور معاہدے کے تحت حکومت نے قرضے معاف کئے؟۔انہوں نے کہاکہ قرضہ بنک اور موکل کے درمیان کا معاملہ ہے پھر کیسے حکومت معاف کر سکتا ہے؟۔انہوں نے کہاکہ ان قرضوں کے مد میں جو سیکورٹی جمع کی گئی تھی اسکا کیا فیصلہ کیا گیا ہے؟۔انہوں نے کہاکہ کیا 228 ارب روپے قرضہ ہے یا بمعہ سود واجب الادا رقم ہے؟۔انہوں نے کہاکہ خیران کن بات ہے کہ حکومت کو واجب الادا 228 ارب روپے کے قرضے معاف کرائے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…