پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

بھارت کیلئیفضائی حدود کی بندش،مسئلہ کشمیرپرعالمی عدالت سے رجوع اوراسرائیل سے تعلقات کاآغاز،پاکستان نے بڑا اعلان کردیا

datetime 29  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس موجود آپشنز میں سے ایک فضائی حدود کی بندش بھی ہے جو زیر غور ہے اور اس کا فیصلہ ہم اپنے وقت پر کریں گے،پاکستان اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیر کا فیصلہ حل کرنے کے اصولی موقف پر قائم ہے، عالمی عدالت انصاف میں جانے پر مشاورت جاری ہے،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بہت جلد ہیومن رائٹس کونسل جینوا جائیں گے

جہاں مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق بات کی جائے گی،کرتار پور راہداری سے متعلق زیرو پوائنٹ پر پاک-بھارت تکنیکی مذاکرات (آج) جمعہ کو ہوں گے،اسرائیل سے تعلقات کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی بڑی واضح ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔جمعرات کو یہاں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دور ان ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فضائی حدود کی بندش پر اعلیٰ حکام کے ساتھ بات چیت ہوچکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ حالیہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے پاس موجود آپشنز میں سے ایک فضائی حدود کی بندش کا معاملہ بھی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے اب تک اس ضمن میں کوئی فیصلہ نہیں کیا لیکن یہ فیصلہ پاکستان اپنے وقت پر لے گا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مسئلہ آزاد جموں و کشمیر یا گلگت بلتستان کا نہیں بلکہ مسئلہ ریاست کشمیر کا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ جو اقدام بغیر سوچے سمجھے لیے جاتے ہیں اس کے نتائج ایسے ہی آتے ہیں اور اس کے بعد ایسی ہی صورتحال پیدا ہوتی ہے اور اس وقت بھارت اسی وجہ سے دنیا میں اِدھر اْدھر بھاگ رہا ہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سلامتی کونسل سے جواب ملا یا نہیں؟ تو اس پر میں یہ ہی کہوں گا کہ اس پر بات چیت ہونا ہی پاکستان کے لیے جواب تھا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کے وزیر خارجہ بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ یہ پاکستان کی جدوجہد ہے جو جاری ہے اور چلتی رہے گی۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیر کا فیصلہ حل کرنے کے اصولی موقف پر قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کا فیصلہ ہونے میں چاہے کتنا ہی وقت کیوں نہ لگ جائے لیکن فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔کشمیر کی صورتحال سے متعلق بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو تاحال برقرار ہے جبکہ مقبوضہ وادی کے دیگر علاقوں سے سڑک اور مواصلاتی رابطے کٹے ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ بھارتی افواج بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایل اوسی پرسیز فائر کی خلاف ورزیوں پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کیا اور احتجاج ریکارڈ کروایا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی فوج نے آزاد کشمیر میں نیکرون اور چیڑی کوٹ سیکٹرز پر شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کشمیر اب کسی ملک کا اندرونی نہیں بلکہ بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے جبکہ وزارت خارجہ کشمیر سے متعلق اعداد و شمار بھی ویب سائٹ پر جاری کر رہی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ برطانوی پارلیمانی وفد کو کشمیر کی سنگین صورتحال سے آگاہ کیا۔پاکستان کے عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) جانے سے متعلق لہے گئے سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ اس پر مشاورت جاری ہے تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بہت جلد ہیومن رائٹس کونسل جینوا جائیں گے جہاں مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق بات کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اس وقت وہاں موجود ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ جنیوا میں پاکستان کے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور دیگر ممالک کے ساتھ رابطے ہیں اور اس پر کام جاری ہے تاہم اس میں ہونے والی پیشرفت سے متعلق اذگاہ کیا جائے گا۔

کرتار پور راہداری سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان، وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اعلان کردہ وقت پر ہی کرتار پور راہداری کھولنے کے لیے پر عزم ہے۔انہوں نے بتایا کہ کرتار پور راہداری سے متعلق زیرو پوائنٹ پر پاک-بھارت تکنیکی مذاکرات 30 اگست کو ہوں گے۔پاک بھارت سرحد کھلنے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں موجود بھارتی شہری واہگہ سے واپس جاسکتے ہیں جبکہ بھارت میں پاکستانیوں کے پھنسے ہونے کی اطلاعات نہیں ہیں۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکا اور طالبان کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور امید ہے کہ اس میں جلد متوقع نتائج سامنے آئیں گے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے افغانستان کو سرحد پار موجود دہشت گرد ٹھکانوں سے متعلق آگاہ کردیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد نے افغان سرحد پر فائرنگ کے کابل کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…