ہفتہ‬‮ ، 11 اپریل‬‮ 2026 

نیازی حکومت کشمیر کی صورتحال سے پیشگی آگاہ تھی، مولانا فضل الرحمان کے سنگین الزامات،حکومت کے خاتمے کیلئے مارچ کی تاریخ کا اعلان کردیا

datetime 25  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ نے مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ نیازی حکومت نے کشمیر معاملے پر مجرمانہ غفلت سے کام لیا،نیازی حکومت کشمیر کی صورتحال سے پیشگی آگاہ تھی،ہزاروں مسلمانوں کے قاتل کو ایوارڈ دینے سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے،یو اے ای حکومت مودی سے ایوارڈ واپس لے، وفاقی دارالحکومت میں نااہل حکومت کے خاتمے کے لیے آزادی مارچ اکتوبر میں ہی ہو گا۔ مولانا فضل الرحمن نے شوری اجلاس کے بعد

پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں آزادی مارچ اکتوبر میں ہی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے حزب اختلاف کی جماعتوں کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر ملک میں انارکی پھیلا رہے ہیں وہ کس کھیت کی مولی ہیں جو ہمیں ڈرا دھمکا رہے ہیں، میں وزیر داخلہ کو دعوت دوں گا کہ وہ ہمارے قافلوں کا استقبال دیکھیں ہمارے کارکنان پر امن لوگ ہے۔سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ حکومت کی ایک سالہ کارکردگی سے مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے جبکہ جبری طور پر اس حکومت کو ہم قوم پر مسلط نہیں ہونے دیں گے اور پاکستان کے اسلامی تشخص کے لیے ہم اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔مولانا فضل الرحمان نے کشمیر سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں اس وقت انسانی حقوق بری طرح پامال ہو رہے ہیں لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی سوالیہ نشان ہے تاہم ہماری جماعت اور پوری قوم کشمیریوں کے ساتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کے انتخابی منشور میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کا ذکر موجود تھا لیکن ہماری حکومت نے مجرمانہ غفلت سے کام لیا۔ ہم کشمیریوں کے ساتھ حکومت کی مجرمانہ پالیسی کو بھی اپنی احتجاج تحریک کا حصہ بنائیں گے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری جماعت اور پوری قوم کشمیریوں کے جدوجہد مین ان کے ساتھ شانہ بشانہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کی صورتحال انتہائی گھمبیر ہے،

وہاں اس وقت انسانی حقوق پوری طرح پامال ہو رہے ہیں، اس کے باوجود اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظمیں خاموش ہیں۔ یہ ایک سوالیہ نشان ہے، اس پر اقوام متحدہ کو پوزیشن واضع کرنی چاہیے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مدارس کی تنظمیں حکومت کے ساتھ مذکرات کو معطل کریں کیونکہ موجودہ حکومت نااہل بھی ہے اور مدارس کے حوالے سے بدنینت بھی ہے۔سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ

مہنگائی نے غریب شخص سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔ معاشی طور پاکستان دیوالیہ پن کے دہانے پر ہے۔ جب تک یہ حکومت ہے کشمیربک جائے گا۔ وزارت خارجہ اور سفارت خانے بڑی طاقتوں کے خوش آمدی مرکز بن چکے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہزاروں مسلمانوں کے قاتل کو ایوارڈ دینے سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے اور ہم متحدہ عرب امارات کی حکومت سے مطالبہ کرتے ہے کہ مودی سے ایوارڈ واپس لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…