ہفتہ‬‮ ، 11 اپریل‬‮ 2026 

 جہاد کشمیر کیلئے 20ہزار نوجواں تیار،دھماکہ خیز اعلان کردیاگیا

datetime 25  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد  (آن لائن) ناموس رسالت اور ختم نبوت کے تحفظ کیلئے  پاکستان کی غالب اکثریت رسول محتشم? کے نام پر  مر ٹنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے، اسلام کے نام پر معرض وجود  آنے والی ریاست پاکستان میں خلاف اسلام کسی سرگرمی کی اجازت دیں گے نہ اس کے سرپرستوں کو چھوڑا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار مولانا گلزار احمد آزاد، مولانا ضیاء  الحق چینوٹی، مولانا افتخار اللہ شاکر،

مفتی عبدالرشید عثمانی اور مولانا کلیم اللہ سمیت  ممتاز علماء  کرام نے آج یہاں  مرکزی جامع مسجد مکی میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ پنجاب کی عاملہ و شوری کے ہنگامی و مشاورتی اجلاس  میں کیا۔ صاحبزادہ سید سمیع اللہ حسینی اور مولانا قاری احمد ندیم کی زیر صدارت اجلاس میں راولپنڈی، اسلام آباد سمیت پنجاب کے تمام شہروں  سے تنظیمی عہدیداروں نے شرکت کی۔ یک جہتی کشمیر اور تحفظ ختم نبوت کے بینر تلے منعقدہ اجلاس میں منظور شدہ قرار دادوں میں  بتایا گیا کہ کشمیر تکمیل پاکستان کا ایجنڈا اور حصہ ہے،سیاسی و عسکری قیادت اشارہ کرے تو   انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ پنجاب پندرہ سے بیس ہزار نوجوانوں کو جہاد کشمیر کیلئے روانہ کرسکتی ہے، دوسری قرارد میں  محرم الحرام کے تقدس کو برقرار رکھنے کیلئے  انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ پنجاب  نے تمام شہروں میں پولیس اور انتظامیہ کو غیر مشروط تعاون کی پش کش کی۔  مشاورتی اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں نائب صدرصاحبزادہ سید سمیع اللہ حسینی  نے بتایا کہ پنجاب بھر میں یکم سے دس ستمبر تک ہفتہ تحفظ ناموس رسالت? منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سٹی اور ضلعی سطح پر پروگرامز، سیمناراور بیداری واک کے زریعے عوام کو  1973کے آئین کی ان شقوں کے بارے میں آگاہی دی جائیگی جس کی بدولت قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج کیا گیا۔ اس سے قبل مشاورت اجلاس میں  مقررنین کا کہنا تھا کہ بھارت کی طرف سے آئین کی دفعہ 370 اور35-A کی تحلیل  سوچی سمجھی اور گھناونی سازش ہے

جس کا مقصد کشمیریوں کو اْن کے بہت سے حقوق سے محروم کر کے اْن کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔1950ء  سے لے کر 2019ء  تک آرٹیکل 370اور 35-Aنے شیخ عبداللہ کے قبیل سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کوموثر ہتھیار فراہم کیا جس کے ذریعے کشمیر یوں کو جدوجہدآزادی کے خلاف و رغلا نے کی ناکام کوشش کی گی اب مگر حالات بدل چکے ہیں  نریندر مودی کی قیادت میں ہند و فاشنرم کا دیوخوفناک چنگھاڑ کے کے ساتھ بیدار ہوگیاہے

جنکا فاشنرم کا سیلاب بھارت کی نام نہاد سیکولر پہچان کو بہا لے جائے گا  اس صورت حال نے محبوبہ مفتی، فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ وغیرہ جیسے ابن الوقتوں کے راستے بھی محدود کردیئے ہیں۔ اب ان کے سامنے دو ہی آپشن ہیں۔ یاتو وہ منافقت ترک کر کے حریت پسند وں کی صفوں میں شامل ہوجائیں یا پھر میر صادق اور میر جعفر جیسے غداروں کی فہرست میں اپنا نام لکھوا لیں۔  مودی سرکار یاد رکھے کشمیر کی داستان کا انجام بھی اسکی ذلت و رسوائی اور مظلوم کشمیری مسلمانوں کی فتح و آزادی پر ہوگا۔ آخر میں سجادہ نشین خانقاء  حسینیہ پیر ثناء  اللہ حسینی  نے اجتماعی دعا کرائی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…