بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

جولائی کے مہینے میں محکمہ ریلوے کو مختلف وجوہات کی بناء پر 20کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا،مسافر بھی خوار

datetime 23  اگست‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)جولائی کے مہینے میں محکمہ ریلوے کو مختلف وجوہات کی بناء پر 20کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جولائی میں ٹرینوں کی منسوخی، بھاری ریفنڈ اور سٹاف کے آپریشنل الاؤنسز کے باعث ریلوے کو 20کروڑروپے کا نقصان ہوا۔

ریلوے سسٹم کے مطابق 138اپ اینڈ ڈاؤن مسافر ٹرینیں ایک ماہ کے دوران پینسٹھ ہزار گھنٹوں میں سفر مکمل کرتی ہیں مگر یہ 70 ہزار گھنٹوں میں طے ہوا، کنکٹنگ ریکس لنک کے ذریعے 1455گھنٹے ضائع ہوئے۔یکم جولائی سے دس اگست تک مال بردار گاڑیوں کی بروقت آمد ورفت کی شرح 11سے 13فیصد رہی، ٹرینوں کی مجموعی باقاعدگی بھی 45سے 50فیصد ریکارڈ کی گی۔سگنل اور انجنوں کی خرابی، بارشوں اور دیگر وجوہات کی بنا ء پر مسافر ٹرینیں پانچ ہزار چھ گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی ہیں، ٹرینیں پانچ ہزار گھنٹے زیادہ چلنے سے فیول بھی زیادہ ضائع ہوا۔ ریل گاڑیوں کے متاثرہ شیڈول پر مسافر بھی انتظار کی اذیت سے دوچار رہے۔مجموعی طور پر موسم کی خرابی سے ٹرینوں کے سات سو انسٹھ گھنٹے،کمپیوٹر بیسڈ انٹر لاکنگ سگنل سسٹم میں خلل سے پانچ سو انیس گھنٹے ضائع ہوئے، ٹریک پر فنی رکاوٹوں سے تین سو تراسی گھنٹے،دوران سفر کوچوں کی خرابی سے دوسو تینتالیس گھنٹے تاخیر ہوئی۔ جولائی کے مہینے میں محکمہ ریلوے کو مختلف وجوہات کی بناء پر 20کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جولائی میں ٹرینوں کی منسوخی، بھاری ریفنڈ اور سٹاف کے آپریشنل الاؤنسز کے باعث ریلوے کو 20کروڑروپے کا نقصان ہوا۔ریلوے سسٹم کے مطابق 138اپ اینڈ ڈاؤن مسافر ٹرینیں ایک ماہ کے دوران پینسٹھ ہزار گھنٹوں میں سفر مکمل کرتی ہیں مگر یہ 70 ہزار گھنٹوں میں طے ہوا، کنکٹنگ ریکس لنک کے ذریعے 1455گھنٹے ضائع ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…