جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

زمین پھٹی نہ آسمان گرا! مشتعل ہجوم نے چوری کے شبے میں 14سالہ لڑکے کو تشدد کر کے مارڈالا، قریب کھڑے لوگ ویڈیو بناتے رہے

datetime 18  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)صوبائی دارالحکومت کراچی کے علاقے بہادرآباد میں مکینوں نے تشدد کرکے کم عمر مبینہ چور کو ہلاک کردیا جبکہ پولیس نے 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔نجی ٹی وی کے مطابق ایس ایچ او فیروزآباد اورنگزیب خٹک کا کہنا تھا کہ ایک سوسائٹی میں واقع گھر کے افراد کے بیان کے مطابق 2 مشتبہ شخص چوری کی غرض سے ان کے گھر میں داخل ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ ان میں سے ایک شخص فرار ہوگیا جبکہ دوسرے مشتبہ شخص کو گھر والوں نے پکڑ لیا، جس کے بعد علاقہ مکین جمع ہوگئے اور پولیس کے آنے سے قبل اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔بعد ازاں لڑکے کو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا جہاں اس کی موت کی تصدیق کردی گئی، مرنے والے نوجوان کی شناخت 16 سالہ ریحان ولد زہیر کے نام سے ہوئی جو خداداد کالونی کا رہائشی تھا۔جے پی ایم سی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ مشتبہ لڑکے کو مردہ حالت میں ہسپتال لایا گیا، جہاں اس کا پوسٹ مارٹم کیا گیا جہاں اس کی موت کی وجہ ‘کسی سخت چیز سے کیے گئے تشدد کے باعث سر پر چوٹ لگنے کو قرار دیا گیا۔دوسری جانب ورثا کا کہنا تھا کہ لڑکا ایک ‘قصائی تھا جو جانوروں کی قربانی کے پیسے لینے گیا تھا کہ اسے ‘غلطی سے چور سمجھ کر گھر کے اندر نہیں بلکہ ‘سڑک پر قتل کردیا گیا۔دوسری جانب حراست میں موجود افراد نے ابتدائی تفتیش میں پولیس کو بتایا کہ انہوں نے لڑکے کو قتل نہیں کیا بلکہ وہاں جمع ہونے والے افراد کے تشدد سے اس کی موت واقع ہوئی، تاہم پولیس ان کی شناخت کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔دریں اثنا اس واقعے سے متعلق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے۔

جس میں لڑکا مبینہ طور پر چوری کی وارداتوں کا اعتراف کرتا نظرآیا، تاہم اس ویڈیو میں لڑکے پر تشدد کو دیکھا جاسکتا تھا۔اس ویڈیو سے متعلق ایس ایچ او نے تصدیق کی کہ یہ سچ ہے کہ لڑکے کو گھر کے اندر باندھ کر تشدد کیا گیا اور کسی نے اس واقعے کی ویڈیو بنائی۔دریں اثنا وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…