جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

زمین پھٹی نہ آسمان گرا! مشتعل ہجوم نے چوری کے شبے میں 14سالہ لڑکے کو تشدد کر کے مارڈالا، قریب کھڑے لوگ ویڈیو بناتے رہے

datetime 18  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)صوبائی دارالحکومت کراچی کے علاقے بہادرآباد میں مکینوں نے تشدد کرکے کم عمر مبینہ چور کو ہلاک کردیا جبکہ پولیس نے 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔نجی ٹی وی کے مطابق ایس ایچ او فیروزآباد اورنگزیب خٹک کا کہنا تھا کہ ایک سوسائٹی میں واقع گھر کے افراد کے بیان کے مطابق 2 مشتبہ شخص چوری کی غرض سے ان کے گھر میں داخل ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ ان میں سے ایک شخص فرار ہوگیا جبکہ دوسرے مشتبہ شخص کو گھر والوں نے پکڑ لیا، جس کے بعد علاقہ مکین جمع ہوگئے اور پولیس کے آنے سے قبل اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔بعد ازاں لڑکے کو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا جہاں اس کی موت کی تصدیق کردی گئی، مرنے والے نوجوان کی شناخت 16 سالہ ریحان ولد زہیر کے نام سے ہوئی جو خداداد کالونی کا رہائشی تھا۔جے پی ایم سی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ مشتبہ لڑکے کو مردہ حالت میں ہسپتال لایا گیا، جہاں اس کا پوسٹ مارٹم کیا گیا جہاں اس کی موت کی وجہ ‘کسی سخت چیز سے کیے گئے تشدد کے باعث سر پر چوٹ لگنے کو قرار دیا گیا۔دوسری جانب ورثا کا کہنا تھا کہ لڑکا ایک ‘قصائی تھا جو جانوروں کی قربانی کے پیسے لینے گیا تھا کہ اسے ‘غلطی سے چور سمجھ کر گھر کے اندر نہیں بلکہ ‘سڑک پر قتل کردیا گیا۔دوسری جانب حراست میں موجود افراد نے ابتدائی تفتیش میں پولیس کو بتایا کہ انہوں نے لڑکے کو قتل نہیں کیا بلکہ وہاں جمع ہونے والے افراد کے تشدد سے اس کی موت واقع ہوئی، تاہم پولیس ان کی شناخت کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔دریں اثنا اس واقعے سے متعلق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے۔

جس میں لڑکا مبینہ طور پر چوری کی وارداتوں کا اعتراف کرتا نظرآیا، تاہم اس ویڈیو میں لڑکے پر تشدد کو دیکھا جاسکتا تھا۔اس ویڈیو سے متعلق ایس ایچ او نے تصدیق کی کہ یہ سچ ہے کہ لڑکے کو گھر کے اندر باندھ کر تشدد کیا گیا اور کسی نے اس واقعے کی ویڈیو بنائی۔دریں اثنا وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…