جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

37ہزار 618قومی شناختی کارڈز جعلی قرار، تعلق کن کن شہروں سے نکلا؟فہرست جاری

datetime 10  جولائی  2019 |

پشاور(آن لائن)خیبر پختونخوا میں 37ہزار 618قومی شناختی کارڈز کو جعلی قرار دیا ہے ۔جعلی قرار دیئے جانے والے کارڈز کو ضبط کر لیا گیا ہے۔ پشاور ، چارسدہ ، بنوں ، لکی مروت ، اپردیر، لوئر دیر، چترال ، شانگلہ ، بونیر ، مالاکنڈ ، بنوں ، ڈیرہ اسماعیل خان

نوشہرہ ، سوات ، سمیت صوبے کے 25اضلاع میں حساس اداروں کی جانب سے مشکوک قرار دیئےجانے کے بعد نادرا نے جعلی سازی اور غیر قانونی پروسیسنگ سے جاری کئے گئے تمام شناختی کارڈ ز کو ڈیجٹیل بنیادوں پر ضبط کر لیا گیا ہے ۔ قبائلی ساتوں اضلاع میں 5ہزار 866شناختی کارڈ کومستقل بنیادوں پر ضبط کیا گیا ہے۔ قبائلی اضلاع خیبر ، مہمند ، باجوڑ ، اورکزئی ، شمالی وزیرستان ، جنوبی وزیرستان ، کرم اضلاع میں یہ کاروائی کی گئی ہیں ۔ نادرا ذرائع کے مطاق صوبائی دارلحکومت پشاور کے مختلف علاقوں سے بیس ہزار 754شناختی کارڈز مجموعی طور پرجعلی نکلے ہیں ۔ زیادہ ترجعلی شناختی کارڈز یکہ توت ، رنگ روڈ ، چارسدہ روڈ ، بورڈ، سمیت دیگر علاقوں میں چھان بین کے دوران جعلی ثابت ہو ئے ہیں ۔چارسدہ میں 2ہزار 697،مردان میں 2ہزار 560، نوشہرہ میں 1ہزار876، قبائلی اضلاع باجوڑ میں 1ہزار738، خیبر میں 1ہزار507، ضلع مہمند میں 844، ضلع کرم میں 687شناختی کارڈز جعلی پائے گئے ہیں ۔ جبکہ نادرا کے 120ملازمین کو محکمانہ کاروائی کے بعد ملازمت سے برطرف کیا گیاہے برطرف کئے گئے ملازمین میں سپرنٹنڈنٹس ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس ، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز ، جونیئر و سینٹر ایگزیکٹو شامل ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…