پیر‬‮ ، 05 جنوری‬‮ 2026 

قرض پروگرام کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف نے پاکستانی معیشت پر رپورٹ اور قرض کی انتہائی سخت شرائط بھی جاری کر دیں 

datetime 4  جولائی  2019 |

کراچی(این این آئی)قرض پروگرام کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف نے پاکستانی معیشت پر رپورٹ اور قرض کی شرائط بھی جاری کر دی ہیں۔آئی ایم ایف نے مہنگائی 13 فیصد کی بلند سطح تک بڑھنے کی پیش گوئی کی ہے،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو مالی ضروریات پوری کرنے کیلئے 38 ارب ڈالر درکار ہوں گے، دیگر عالمی مالیاتی اداروں اور ممالک سے مالی مدد ملنے کا امکان ہے۔ آئی ایم ایف نے ملک میں کرپشن پر قابو پانے کیلئے کوششیں تیز کرنے پر زور دیا۔

آئی ایم ایف نے جی ڈی پی میں ٹیکسوں کا حصہ 4 سے 5 فیصد بڑھانے کا مطالبہ کر دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ وفاق اور صوبوں کو مل کر ٹیکس آمدن بڑھانا ہوگی، بجلی اور گیس قیمتوں کے تعین میں سیاسی مداخلت ختم کرنا ہوگی، موجودہ مالی سال معاشی شرح نمو صرف 2.4 فیصد رہنے کا امکان ہے، پاکستان کو سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔آئی ایم ایف نے کہاکہ پاکستان سالانہ 1500 سے 2000 ارب روپے کی ٹیکس آمدن بڑھائے گا۔ڈالر کا مارکیٹ ریٹ مقرر کیا جائے گا اورمانیٹری پالیسی کے ذریعے مہنگائی کو قابو کیا جائے گا۔شرائط میں کہاگیاہے کہ توانائی کے شعبہ میں اصلاحات کی جائیں گی اور توانائی سیکٹر کے واجبات کی وصولیاں یقینی بنائی جائیں گی جبکہ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں سیاسی مداخلت نہیں کی جائے گی۔آئی ایم ایف کی شر ائط کے مطابق کرپشن کے خاتمے کے لیے کاررروائیاں کی جائیں گی۔آئی ایم ایف نے شرط عائد کی ہے کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکا جائے،  قرض پروگرام سے پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں تک رسائی ملے گی۔ پاکستان کو بین الاقوامی اداروں سے 38 ارب ڈرز کا قرضہ ملے گا، پاکستان کی معیشت کو شدید چیلنجز درپیش ہیں،   ناقص پالیسیوں کی وجہ سے معیشت کمزور ہوئی،  اندرونی اور بیرونی قرضوں میں اضافہ ہوا،ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طور پرکنٹرول کیا گیا، ٹیکس کے نظام میں کمزوریاں ہیں، سرکاری اداروں میں نا اہلی کے باعث نقصانات میں اضافہ ہوچکا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر


میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…