بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

قرض پروگرام کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف نے پاکستانی معیشت پر رپورٹ اور قرض کی انتہائی سخت شرائط بھی جاری کر دیں 

datetime 4  جولائی  2019 |

کراچی(این این آئی)قرض پروگرام کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف نے پاکستانی معیشت پر رپورٹ اور قرض کی شرائط بھی جاری کر دی ہیں۔آئی ایم ایف نے مہنگائی 13 فیصد کی بلند سطح تک بڑھنے کی پیش گوئی کی ہے،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو مالی ضروریات پوری کرنے کیلئے 38 ارب ڈالر درکار ہوں گے، دیگر عالمی مالیاتی اداروں اور ممالک سے مالی مدد ملنے کا امکان ہے۔ آئی ایم ایف نے ملک میں کرپشن پر قابو پانے کیلئے کوششیں تیز کرنے پر زور دیا۔

آئی ایم ایف نے جی ڈی پی میں ٹیکسوں کا حصہ 4 سے 5 فیصد بڑھانے کا مطالبہ کر دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ وفاق اور صوبوں کو مل کر ٹیکس آمدن بڑھانا ہوگی، بجلی اور گیس قیمتوں کے تعین میں سیاسی مداخلت ختم کرنا ہوگی، موجودہ مالی سال معاشی شرح نمو صرف 2.4 فیصد رہنے کا امکان ہے، پاکستان کو سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔آئی ایم ایف نے کہاکہ پاکستان سالانہ 1500 سے 2000 ارب روپے کی ٹیکس آمدن بڑھائے گا۔ڈالر کا مارکیٹ ریٹ مقرر کیا جائے گا اورمانیٹری پالیسی کے ذریعے مہنگائی کو قابو کیا جائے گا۔شرائط میں کہاگیاہے کہ توانائی کے شعبہ میں اصلاحات کی جائیں گی اور توانائی سیکٹر کے واجبات کی وصولیاں یقینی بنائی جائیں گی جبکہ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں سیاسی مداخلت نہیں کی جائے گی۔آئی ایم ایف کی شر ائط کے مطابق کرپشن کے خاتمے کے لیے کاررروائیاں کی جائیں گی۔آئی ایم ایف نے شرط عائد کی ہے کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکا جائے،  قرض پروگرام سے پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں تک رسائی ملے گی۔ پاکستان کو بین الاقوامی اداروں سے 38 ارب ڈرز کا قرضہ ملے گا، پاکستان کی معیشت کو شدید چیلنجز درپیش ہیں،   ناقص پالیسیوں کی وجہ سے معیشت کمزور ہوئی،  اندرونی اور بیرونی قرضوں میں اضافہ ہوا،ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طور پرکنٹرول کیا گیا، ٹیکس کے نظام میں کمزوریاں ہیں، سرکاری اداروں میں نا اہلی کے باعث نقصانات میں اضافہ ہوچکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…