جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

مہنگائی کا نیا طوفان آنے کیلئے تیار،ڈالرکی اڑان جاری،روپیہ ہلکان ہوکر رہ گیا،حکومتی قرضوں میں اچانک کتنا بڑا اضافہ ہوگیا؟ماہرین کے انتہائی تشویشناک،خطرناک پیش گوئی کردی

datetime 14  جون‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی) حکومت کی جانب سے روپے کی بے قدری روکنے میں ناکامی کے بعد ڈالرکی اڑان جاری ہے اور روپیہ ہلکان ہوکررہ گیا۔ حکومتی قرضوں میں 1800 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا جبکہ سونے کی قیمت میں مزید 2700روپے فی تولہ کا مزید اضافہ ہوگیا، ڈالر کی قدر میں اضافے کے باعث مہنگائی کا نیا طوفان آنے کیلئے تیار ہے، تمام درآمدی اشیاء سمیت ملکی چیزیں بھی مہنگی ہوجائینگی۔

تفصیلات کے مطابق  ایک موقع پر مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر 4روپے سے زائد کے اضافے کے بعد 157روپے 50 پیسے  تک پہنچ گیا جبکہ انٹربینک میں بھیڈالر1.84روپے بڑھتا ہوا 156روپے تک آگیا۔فاریکس ڈیلرز کے مطابق روپے کی قدر میں ریکارڈ بے قدری جاری ہے، انٹر بینک میں 3.10 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 3.50 روپے کا اضافہ ہواجس کے بعد انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر 156 روپے پر ٹریڈ کررہا ہے۔ اوپن مارکیٹ میں 13 روز میں ڈالر کی قیمت 7 روپے بڑھ گئی جبکہ گزشتہ چند ماہ کے دوران روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں 10 روپے سے زائد کا اضافہ دیکھنے میں  آیا ہے، رواں ماہ  میں انٹربینک میں ڈالر 8 روپے سے بھی زائد مہنگا  ہوچکا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی بجٹ کے بعد ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافے کا رجحان جاری ہے اور گزشتہ روز بھی روپے پر زبردست دباؤ دیکھا گیا جس کے بعد اوپن مارکیٹ میں ڈالر 4روپے کے نمایاں اضافے سے 153.50سے بڑھ کر157.50روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جبکہ ڈالر کی قیمت خرید 156روپے کی سطح پر ریکارڈ کی گئی،انٹر بینک میں بھی روپیہ دباؤ کا شکار رہا اور ڈالر کی قدر 1.84پیسے اضافے سے 154روپے سے بڑھکر155روپے84پیسے کی سطح پر جاپہنچی،فاریکس ذرائع کا کہنا ہے کہ عید الفطر کی تعطیلات کے بعد سے در آمد کنندگان کی جانب سے ڈالر کی خریداری کا زبردست دباؤ ہے اور اسی وجہ سے ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافے کا رجحان ہے،

مرکزی بینک کی جانب سے بھی آئی ایم ایف کے دباؤ کے باعث فی الحال مارکیٹ میں کسی قسم کی دخل اندازی بھی دکھائی نہیں دے رہی،گزشتہ روز سعودی ریال کی قدر 1روپے اضافے سے 40.50سے بڑھکر41.50روپے،یورو کی قدر 2.30روپے اضافے سے 173.20سے بڑھکر175.50روپے،برطانوی پاؤنڈ کی قدر 2.50روپے اضافے سے 194.50سے بڑھکر197روپے کی سطح تک جا پہنچی۔فی تولہ سونے کی قیمت2700روپے کے نمایاں اضافے سے75900روپے پر پہنچ گئی۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی حکومت  میں ڈالر کی قدر میں اضافے سے پورے سال کے دوران بیرونی قرضے بیٹھے بٹھائے 2800 ارب روپے بڑھ گئے۔ موجودہ دور حکومت یعنی اگست 2018 سے آج تک ڈالر کی قدر 124 روپے سے برھ کر 156 روپے کی قریب آگئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ در آمد کنندگان کی جانب سے ایل سی کے باعث ڈالر کی طلب میں اضافے کا رجحان ہے اور عید الفطر کی ایک ہفتہ کی تعطیلات کے باعث در آمد کنندگان پر ایل سی کھلوانے کیلئے ڈالر کے حصول کا زبردست دباؤ ہے۔ ذرائع کے مطابق ملک پر بیرونی قرضوں کا حجم 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا، اس طرح ڈالر کی قدر میں 1 روپیہ اضافہ ہونے سے غیر ملکی قرضوں میں تقریباً100 ارب  کا اضافہ ہوجاتاہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ گرتے ہوئے درآمدی بلوں کی ادائیگیاں اور بیرونی قرضوں کی واپسی روپے کی قدر میں کمی کا سبب بن رہے ہیں، اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت کو نہ صرف ملک میں بیرونی سرمایہ کاری لانے بلکہ ایکسپورٹس کو بڑھانے کی فوری ضرورت ہے۔ماہر اقتصادیات عتیق الرحمان کا کہنا ہے کہ  ڈالر کا پارہ ہائی ہونے  سے مہنگائی سے بے حال عوام  مزید مہنگائی کے بوجھ تلے  دب جائیں گے کیونکہ چائے کی پتی سمیت، پٹرول، ڈیزل، کھانا پکانے کا تیل، بچوں کا خشک دودھ، ڈائپرز، بیشتر دالیں، موبائلز سمیت تمام درآمدی الیکڑانک آئٹمز کی قیمتیں 2 فی صد تک بڑھ جائینگی۔ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ  ڈالر کی مسلسل قیمت بڑھنے سے دالیں اور چائے کی پتی  2 سے 5روپے فی کلو تک مہنگی ہوسکتی ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات بھی 5 سے 7 روپے فی لٹر بڑھنے کے امکانات ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…