جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

خوفناک طوفان،سمندری پانی کراچی میں داخل،آس پاس کے جزائر بھی سمندری پانی میں ڈوب گئے،صورتحال تشویشناک

datetime 14  جون‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی)سمندری طوفان وایو اپنے آخری سفر پر رواں دواں ہے، سائیکلون کی رفتار میں انتہائی کمی آئی ہے لیکن اس کی شدت برقرار ہے۔تفصیلات کے مطابق چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سمندری طوفان وایو کراچی کے جنوب سے 410 کلو میٹر دور ہے، تاہم کراچی میں سمندری ہوائیں معطل ہیں اور شہر شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اچھی بات یہ ہے کہ شہر قائد میں ہوا میں نمی کا تناسب کم ہونے کے باعث درجہ حرارت کی معمول سے زائد محسوس نہیں کی جائے گی۔ چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفرازنے بتایا کہ سائیکلون وایو کی رفتار میں انتہائی کمی آئی ہے لیکن اس کی شدت برقرار ہے، سمندری طوفان وایو کراچی کے جنوب سے 410 کلو میٹر دور ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائیکلون 4 سے 5 کلو میٹر کی رفتار سے شمال مغرب کی جانب بڑھ رہا ہے، سائیکلون کا پاکستان کی کسی بھی ساحلی پٹی سے ٹکرانیکا کوئی امکان نہیں ہے۔چیف میٹرولوجسٹ نے یہ بھی بتایا کہ آئندہ 2 دن کے دوران سائیکلون سمندری میں ہی موجود رہے گا، یہ طوفان سمندر میں ٹھہراو کے بعد وہیں ختم ہو جائے گا۔بحیرہ عرب میں بننے والے سمندری طوفان وائیو کے اثرات شہر کراچی میں واضح نظر آنے لگے ہیں۔سمندر میں طغیانی کے باعث کراچی کے کئی ساحلی گوٹھوں میں پانی آ گیا ہے، جبکہ جیٹیوں پر بھی دو دو فٹ پانی جمع ہے۔تیز طوفانی ہواوں کے باعث کراچی کے ساحلی علاقوں ابراہیم حیدری، ریڑھی گوٹھ میں پانی آ گیا۔علاقہ مکینوں کے مطابق لٹھ بستی، چشمہ گوٹھ، جت محلہ، سچ ڈنو محلے میں بھی سمندر کا پانی چڑھ آیا ہے۔مقامی ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ جیٹیوں پر بھی دو فٹ پانی آ گیا ہے۔ٹھٹھہ کے علاقے کیٹی بندراور اس کے آس پاس کے جزائر بھی سمندری پانی میں ڈوب گئے ہیں، حجامڑو کریک کے گوٹھ، اسحاق دبلو، غلام دبلو اور دیگر گوٹھ بھی متاثر ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ بحیرہ عرب میں بننے والے سمندر طوفان جسے بھارت میں وایو کا نام دیا گیا ہے، اس کے اثرات پاکستان میں سندھ کے ساحلی علاقوں، بدین، ٹھٹھہ کے ساتھ کراچی میں بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔طوفان کے باعث کراچی میں بارش تو نہ ہوئی البتہ گزشتہ روز گرم ہوا کے چلتی رہی، گرمی کے اثرات رات بھر شہر پر طاری رہے جس کی وجہ سے شہری بے حال رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…